Bharat Express DD Free Dish

T Raja Singh

حیدرآباد میں اراکین پارلیمنٹ/اراکین اسمبلی کے لئے بنی ایک اسپیشل کورٹ نے بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجا سنگھ کو 2022 کے ایک معاملے میں بری کردیا ہے۔ یہ معاملہ مذہبی جذبات بھڑکانے سے متعلق آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے دباو میں ان کے خلاف جھوٹے معاملے درج کئے گئے تھے۔

تلنگانہ کے بی جے پی ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ نے پارٹی کے ریاستی صدر کے طور پر رام چندر راؤ کی تقرری پر احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے پارٹی کی حکمت عملی سے اختلاف ظاہرکیا تھا، لیکن ہندوتوا نظریہ سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا تھا۔

تلنگانہ میں بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ گوش محل کے رکن اسمبلی ٹی راجا سنگھ نے بی جے پی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ٹی راجا سنگھ تلنگانہ بی جے پی صدرعہدے کا الیکشن لڑنا چاہتے تھے۔

بی جے پی کے تین اراکین اسمبلی نے اپنی ہی پارٹی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ ایم ایل اے راجا سنگھ نے گزشتہ حکومت میں سازش کا الزام لگایا،  چنتامنی نے اجین سمہاستھا میں زمین کے حصول پرسوالات اٹھائے اور گرجرنے کلش یاترا پرپابندی کوچیلنج کیا۔

انہوں نے کہاکہ ناگا سادھوؤں کی تاریخ یہ ہے کہ وہ کبھی بھی عوام میں نہیں آتے، وہ صرف کمبھ کے دوران آتے ہیں، اگر آپ ان کی تاریخ کو دیکھیں تو سناتن پر جب بھی کوئی بحران آیا، انہی ناگا سادھوؤں نے تلوا،بھالا اٹھایا۔

پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے سوشل میڈیا پر ہندوتوا کا حوالہ دیتے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس کی وجہ سے اب ملک میں سیاست گرم ہوگئی ہے۔ انہوں نے یہ تبصرہ ایکس پر ایک صارف کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیا۔

بی جے پی لیڈر ٹی راجہ سنگھ نے کہا، ''ہندو ووٹ مسلمانوں نے ڈالے۔ یہ تمام ہندو خواتین کے ووٹ تھے، جو برقعہ پوش مقامی لوگوں نے ڈالے تھے۔ یہاں پولیس بھی اسد الدین اویسی کی حمایت میں کھڑی ہوگئی۔

اے آئی ایم آئی ایم لیڈراکبرالدین اویسی کو ریاستی اسمبلی کا پروٹم اسپیکر نامزد کئے جانے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے نومنتخب اراکین اسمبلی کی حلف برداری تقریب کا بائیکاٹ کیا۔

وہ تلنگانہ کی گوشا محل اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس سے قبل بی جے پی نے انہیں اقلیتوں کے خلاف بیانات کی وجہ سے پارٹی سے معطل کر دیا تھا، لیکن اس بار انتخابات کی پہلی فہرست جاری ہونے سے عین قبل ان کی معطلی واپس لے لی گئی۔

پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے تمام پارٹیاں اپنے امیدواروں کا اعلان کر رہی ہیں۔ بی جے پی نے کافی انتظار کے بعد تلنگانہ کے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی ہے۔