Bharat Express DD Free Dish

Swati Maliwal

راجیہ سبھا کے رکن مالیوال پر 13 مئی کو وزیر اعلی کی سرکاری رہائش گاہ پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا تھا۔ کمار کے وکیل نے اپنے موکل سے حراست میں پوچھ گچھ کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے پاس حملہ کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

دہلی پولیس کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا کہ ویبھو کمار کو کیا حق ہے کہ وہ نوکری چھوڑنے کے بعد بھی وہاں کام کر رہے تھے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ ویبھو کمار نے موبائل پاس ورڈ بتانے سے انکار کر دیا تھا۔

دہلی خواتین کمیشن کی سابق چیئرپرسن سواتی مالیوال نے کہا کہ میں کسی کو کلین چٹ نہیں دے رہی ہوں، جس وقت میں وزیراعلیٰ سے ملنے گئی تھی اور میرے ساتھ مارپیٹ کی گئی، اس وقت اروند کیجریوال گھر میں موجود تھے۔

عام آدمی پارٹی کی راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سواتی مالیوال سے بدسلوکی اورمارپیٹ کے معاملے میں مرکزی وزیراسمرتی ایرانی نے کئی سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کیجریوال کو جواب دینا ہوگا۔

سی ایم کیجریوال کے والدین کی جانب سے دہلی پولیس کو پوچھ گچھ کے لیے 23 مئی یعنی آج کا وقت دیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کی ٹیم صبح 11.30 بجے پوچھ گچھ کے لیے اروند کیجریوال کے گھر پہنچنے والی ہے۔ اس کے بعد دہلی پولیس سواتی مالیوال کیس میں مزید کارروائی کرنے جا رہی ہے۔

سواتی مالیوال نے الزام لگایا ہے کہ 13 مئی کو دہلی کے سی ایم ہاؤس میں ان کے ساتھ حملہ کیا گیا تھا۔ مالیوال کا کہنا ہے کہ کیجریوال کے ساتھی وبھو کمار نے انہیں مارا پیٹا اور ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے۔ دہلی پولیس میں درج ایف آئی آر کے بعد ہفتہ کو وبھو کمار کو گرفتار کیا گیا تھا۔

قیصرگنج سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن سنگھ نے سواتی مالیوال کے معاملے پرردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو جیسا بوتا ہے، ویسا ہی سامنے آتا ہے۔

سواتی مالی وال نے لکھا، ’’جب تک میں نے یبھو کمار کے خلاف شکایت درج کروائی، ان کے مطابق میں ’’لیڈی سنگھم‘‘ تھی اور آج بی جے پی کی ایجنٹ بن گئی ہوں؟ انہوں نے لکھا، "پوری ٹرول آرمی کو میرے پیچھے صرف اس لیے لگادیا گیا کہ میں نے سچ بولا۔

کیس کی سماعت کے دوران ویبھو کے وکیل نے کہا کہ انہیں ویبھو کی گرفتاری کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ سواتی مالیوال پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔

اروند کیجریوال نے کہا، 'آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ لوگ  کس طرح عام آدمی پارٹی کے پیچھے پڑے ہیں۔ وہ ہمارے لیڈروں کو یکے بعد دیگرے جیلوں میں ڈال رہے ہیں۔