Bharat Express DD Free Dish

Swati Maliwal

دہلی ہائی کورٹ کے وکیل امت کمار کے مطابق اگر ویبھو کمار کو لگتا ہے کہ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد یا غیر سنجیدہ ہیں، تو وہ سی آر پی سی کی دفعہ 482 کے تحت اپنے خلاف ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

دہلی پولیس نے ویبھو کمار کو سی ایم کیجریوال کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا ہے۔ انہیں سول لائنز تھانے لے جایا گیا ہے۔ ویبھو کمار کا کہنا ہے کہ انہیں میڈیا کے ذریعے ایف آئی آر کی معلومات ملی۔

سواتی مالی   وال نے ایکس پر دہلی پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے  پوسٹ کیا، 'مجھے اطلاع ملی ہے کہ اب یہ لوگ گھر کے سی سی ٹی وی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں..' سواتی مالی وال نے جمعہ کو اپنے ایکس کی ڈی پی بھی تبدیل کرلی ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے کیجریوال والی تصویر لگائی تھی ،لیکن اب اسے بلیک کردیا گیا ہے  

لکھنؤ میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کے ساتھ پریس کانفرنس میں سواتی مالی وال پر پوچھے گئے سوال پر اروند کیجریوال نے مائیک ہٹا دیا تھا۔ جے پی نڈا نے کہا کہ عام آدمی پارٹی جھوٹ کی بنیاد پر قائم ہے۔

سواتی مالی وال نے اپنی پروفائل تصویر تبدیل کرنے کے بعد کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ انہوں نے عام آدمی پارٹی کی پریس کانفرنس کے بعد پارٹی پر حملہ ضرور کیا تھا۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد انہوں نے عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کے بیان کا بھی ذکر کیا تھا۔

اس دوران مسلم راشٹریہ منچ کے رہنما اندریش کمار نے ہر ووٹ کی اہمیت بتائی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے اور جمہوریت میں سب کو یکساں طاقت دی گئی ہے جو اس کا استعمال کرتے ہیں

عام آدمی پارٹی کی طرف سے  اس معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے آتشی نے کہا کہ جب سے اروند کیجریوال کو ضمانت ملی ہے۔ تب سے بی جے پی گھبرا گئی ہے اور اس کی وجہ سے بی جے پی نے ایک سازش رچی ہے۔

ویڈیو منظر عام پر آنے پر سواتی مالی وال نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی اس سیاسی ہٹ مین نے خود کو بچانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

وزیر خزانہ اور بی جے پی لیڈر نرملا سیتا رمن نے کہا کہ سواتی مالی وال پر حملہ کا واقعہ 13 مئی کو سامنے آیا۔ لیکن چار دن گزرنے کے بعد بھی وزیر اعلیٰ نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ انہیں معافی مانگنی چاہیے۔

ذرائع کے مطابق دہلی پولیس کی ٹیم جمعرات کی رات ویبھو کمار کو حراست میں لینے کے لیے ان کے گھر پہنچی۔ اس دوران وہ گھر پر نہیں ملے  لیکن ان کی اہلیہ وہاں موجود تھیں۔ ان سے ویبھو کمار کے مقام کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔