Bharat Express DD Free Dish

Swati Maliwal Case: دہلی پولیس کی ٹیم سواتی مالیوال کے گھر پہنچی، پولیس بد سلوکی کیس کی تحقیقات میں مصروف

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس سواتی مالیوال کے پاس یہ جاننے آئی ہے کہ اگر ان پر حملہ ہوا ہے تو پھر انہوں نے کوئی شکایت درج کیوں نہیں کی۔ کیا ان پر کسی قسم کا دباؤ ہے؟

دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن سواتی مالیوال کے ساتھ بدسلوکی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

عام آدمی پارٹی  ایم پی اور دہلی کمیشن برائے خواتین (ڈی سی ڈبلیو) کی سابق صدر سواتی مالیوال کے ساتھ  بد سلوکی کی تحقیقات کر رہی  دہلی پولیس کی ٹیم جمعرات (16 مئی) کو ان کی رہائش گاہ پہنچی۔ ان میں دہلی پولیس اسپیشل سیل کے سی پی اور ایڈیشنل ڈی سی پی نارتھ شامل تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس سواتی مالیوال کے پاس یہ جاننے آئی ہے کہ اگر ان پر حملہ ہوا ہے تو پھر انہوں نے کوئی شکایت درج کیوں نہیں کی۔ کیا ان پر کسی قسم کا دباؤ ہے؟ اگر سواتی مالیوال پولیس کو کوئی بیان دیتی ہیں تو اسے ایف آئی آر میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

پولیس حکام کے مطابق، مالیوال پیر (13 مئی) کو سول لائنز پولیس اسٹیشن پہنچی تھیں اور الزام لگایا کہ اروند کیجریوال کے پی اے وبھو کمار نے وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ پر ان کے ساتھ بدتمیزی کی۔ انہوں نے ابھی تک اس معاملے میں باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی ہے۔

جانچ کے سلسلے میں دہلی پولیس کی ٹیم بدھ کو سواتی مالیوال کے گھر بھی پہنچی تھی۔ حالانکہ وہ اس وقت گھر پر موجود نہیں تھی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے بدھ کو مالیوال سے اس سلسلے میں ملاقات کی تھی۔ مالیوال سے ملاقات کے دوران سنجے سنگھ کے ساتھ دہلی کمیشن برائے خواتین (DCW) کی رکن وندنا سنگھ بھی تھیں۔

سنجے سنگھ نے منگل (14 مئی) کو کہا تھا کہ مالیوال کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ سی ایم اروند کیجریوال نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read