Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے آج کے فیصلہ پر اپنی خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ 2017 میں پنچائیت سرٹیفکٹ کوشہریت کا ثبوت ماننے والے فیصلہ پرمجھے اپنی جماعتی زندگی میں جس قدرمسرت اورخوشی ہوئی تھی، اس سے کہیں زیادہ آج کے اس اہم آئینی بینچ کے تارخ ساز فیصلہ پر ہو رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے گینگسٹر کیس میں ضمانت کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے کو کہا ہے۔ گینگسٹر کیس میں ضمانت نہ ہونے کی وجہ سے عباس انصاری ابھی جیل میں ہی رہیں گے۔

سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا، 'سزا اور مقدمہ چلانے کے بجائے ممانعت اور روک تھام پر زور دیا جانا چاہیے۔ ہم نے قانون اور سماجی تجزیہ کے پورے دائرہ کار کو دیکھا ہے۔ ہم نے چائلڈ میرج پرہیبیشن ایکٹ کے مناسب نفاذ کے لیے مختلف ہدایات دی ہیں۔

ہریانہ کی 20 اسمبلی سیٹوں پر دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے عرضی گزار کو پھٹکار لگائی اور انہیں متنبہ کیا۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس سوریہ کانت، ایم ایم سندریش اور منوج مشرا نے اکثریتی فیصلہ سنایا، جب کہ جسٹس جے بی پاردی والا نے اختلاف کیا۔

چیف جسٹس آف انڈیا کا ماننا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان برطانوی دور کی وراثت سے آگے بڑھے۔ ان کا ماننا ہے کہ قانون اندھا نہیں ہے اور وہ سب کو یکساں طور پر دیکھتا ہے۔ یہ سی جے آئی ہی تھے جنہوں نے انصاف کی دیوی کے مجسمے کو تبدیل کرنے کی بات کی تھی۔

قانون کی اس شق میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جو بنگلہ دیش سمیت مذکورہ علاقوں سے یکم جنوری 1966 یا اس کے بعد اور 25 مارچ 1971 سے پہلے آسام آئے ہیں اور یہاں مقیم ہیں، وہ 1985 کے شہریت ترمیمی قانون کے تحت شہریت کے اہل ہوں گے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ 64 سالہ جسٹس سنجیو کھنہ کی بطور سی جی آئی مدت کار صرف 6 ماہ ہوگی۔اور جسٹس کھنہ 13 مئی 2025 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ وہ سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے 65 فیصلے دے چکے ہیں۔ اپنے دور میں وہ 275 بنچوں کا حصہ رہے ہیں۔

اگر علامتی طور پر دیکھا جائے تو چند ماہ قبل نصب انصاف کی دیوی کا نیا مجسمہ واضح پیغام دے رہا ہے کہ قانون اندھا نہیں ہوتا۔ وہ آئین کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ مجسمہ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی پہل پر لگایا گیا ہے۔

عدالت نے ڈی ڈی اے چیئرمین کو غیر قانونی درختوں کی کٹائی کے معاملے میں 22 اکتوبر تک حلف نامہ جمع کرانے کو کہا ہے۔