Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

عدالت بی جے پی کی طرف سے دائر اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس میں یکم اگست کو ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

بنچ نے زور دیا کہ کوئی بھی غیر قانونی تارکین وطن کو ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کرنا چاہتا اور صرف اصل شہریوں کو ہی ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی۔

عدالت نے ریاستی وکیل کی جانب سے پیش کردہ ’’گمراہ کن حلف ناموں‘‘ پر بھی سوالات اٹھائے اور معاملے میں تاخیر پر ناراضی کا اظہار کیا۔

یہ دورہ بھارت اور نیپال کے درمیان عوامی و ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی کوششوں کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔نیپال کی عدلیہ اور مقامی حکام کے سینئر اراکین نے استقبالیہ تقریب میں شرکت کی، اور سرحد پار خیرسگالی بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

سی جے آئی بی آر گوئی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کی عدلیہ کے درمیان دوستی کو فروغ دیتا ہے بلکہ جمہوری نظام کو مستحکم کرنے، عدالتی معیار کو بہتر بنانے اور باہمی سیکھنے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

چیف جسٹس گوئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عدالتیں محض تنازعات کے حل کا فورم نہیں بلکہ جمہوریت، مساوات اور انسانی وقار کے تحفظ کی ضامن ہیں۔ انہوں نے نیپالی سپریم کورٹ کی جانب سے صنفی انصاف، پرائیویسی، اور ماحولیاتی حقوق پر دیے گئے تاریخی فیصلوں کی کھل کر تعریف کی۔

سپریم کورٹ نے مانسون کی بارش اورسیلاب کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس بھیجا ہے۔ 4 ریاستوں سے بھی جواب مانگے گئے ہیں، کیونکہ پنجاب، ہماچل پردیش، جموں وکشمیر اوراتراکھنڈ میں بارش اورسیلاب کی وجہ سے حالات بہت خراب ہیں۔

عدالت نے کہا کہ پولیس حراست میں غیر انسانی واقعات کو روکنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی لازمی ہے۔ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اب اس معاملے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

شبیر شاہ کو 4 جون 2019 کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر حزب المجاہدین کے سید صلاح الدین، لشکر طیبہ کے حافظ سعید اور افتخار حیدر رانا جیسے پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے دہشت گردوں سے رابطے کا بھی الزام ہے۔ اے آئی اے کا دعویٰ ہے کہ شاہ نے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے حوالہ نیٹ ورک کے ذریعے فنڈز اکٹھے کیے اور جموں و کشمیر میں بدامنی پھیلانے میں کردار ادا کیا۔

جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جوائےمالیہ باگچی پر مشتمل بنچ نے فیڈریشن کو حکم دیا کہ وہ کمرشل پارٹنر کے انتخاب کے لیے ’’کھلے، مسابقتی اور شفاف عمل‘‘ کے تحت ٹینڈرز جاری کرے تاکہ انڈین سپر لیگ (ISL) کا انعقاد کیا جا سکے۔ اس عمل کی نگرانی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ایل ناگیشور راؤ کو مقرر کیا گیا ہے۔