Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اس سڑک پر 12 گھنٹے طویل ٹریفک جام لگتا ہے۔ عدالت نے 14 اگست کو اس معاملے پر سماعت میں دلچسپی نہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ جب سڑکیں اچھی حالت میں نہیں ہیں تو عوام سے ٹول کیسے لیا جا سکتا ہے؟ لوگ لمبے جام میں پھنسنے پر مجبور ہیں۔

سپریم کورٹ نے بہارووٹرلسٹ پرنظرثانی (ایس آئی آر) کی سماعت کی۔ ڈرافٹ لسٹ سے 65 لاکھ لوگوں کے نام نکال دیئے گئے ہیں۔ ہٹائے گئے لوگوں کے ناموں کے حوالے سے سپریم کورٹ نے کہا کہ ہٹائے گئے 65 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا پبلک کیوں نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اسے پبلک کریں۔ اس پرالیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹھیک ہے اگرآپ کا حکم ہے تو ہم کریں گے۔

بنچ نے مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی اس عرض داشت کا بھی نوٹس لیا کہ ’’اس حوالے سے فیصلہ سازی کے عمل میں کئی تحفظات ہیں۔‘‘

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 4 ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔ تب تک 10 سے 15 سال پرانی ڈیزل اور پیٹرول والی گاڑیوں کے مالکان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے اس ابت کو واضح کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے دہلی، ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی کو حکم دیا ہے کہ وہ فوراً تمام علاقوں سے آوارہ کتوں کو پکڑنا شروع کریں۔ عدالت نے کہا کہ یہ قدم بچوں اور بزرگوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے، تاکہ وہ پارکوں اور گلیوں میں بلا خوف جا سکیں۔

سپریم کورٹ نے بھوپال کے نواب حمید اللہ خان کی جائیداد سے متعلق تنازعہ میں سیف علی خان اوران کے خاندان کوبڑی راحت دی ہے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم پرحکم امتناعی جاری کرتے ہوئے نوٹس جاری کردیا۔ یہ تنازعہ نواب کی وراثت اور جائیداد کی تقسیم سے متعلق ہے، جس میں پٹودی خاندان اپنی وراثت پرحق کا دعویٰ کررہا ہے۔

درخواست گزار نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسے کالعدم قرار دیا جائے کیوں کہ یہ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے اور تنقید کے حق کو دبانے کی کوشش ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظرنہ صرف ہٹا دیئے گئے ہیں بلکہ مرکزی حکومت نے ہمارے اعتراض کو درست ٹھہراتے ہوئے کئی دوسرے مناظر کو بھی فلم سے نکالنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب فلموں میں مسلمانوں کو غلط ڈھنگ سے پیش کرنے کا ایک ٹرینڈ سا چل پڑا ہے۔

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے جرمانہ ایک ہفتے میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اسے توہین عدالت سمجھا جائے گا۔

حزب اختلاف نے سخت اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستانی عدالتی نظام میں انصاف اور غیر جانبداری کو برقرار رکھنے کے لیے ان کی تقرری کو روکا جائے۔