سپریم کورٹ نے ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ملک بھر کے تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی میں عدالت نے پوچھا کہ اب تک تھانوں اور ایجنسیوں کے دفاتر میں کتنے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں؟ کیمرے کام کر رہے ہیں یا نہیں اس کی نگرانی کون کر رہا ہے؟ ریکارڈنگ کو کب تک محفوظ رکھا جا رہا ہے؟
عدالت نے کیا کہا؟
عدالت نے کہا کہ پولیس حراست میں غیر انسانی واقعات کو روکنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی لازمی ہے۔ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اب اس معاملے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس سے پہلے اس سلسلے میں دائر درخواست پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تنبیہ کرتے ہوئے اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔
سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ دوے نے کیا کہا؟
کیس کی سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ دوے نے کہا تھا کہ اب بھی ملک بھر کے بیشتر پولیس اسٹیشنوں اور مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے دفاتر میں مناسب سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں۔ جو کیمرے نصب ہیں وہ یا تو کام نہیں کر رہے یا ان کی کوالٹی خراب ہے۔ کیمرے کی کوالٹی اتنی خراب ہے کہ اس کی آڈیو اچھی نہیں ہے، دھندلا دکھائی دیتا ہے۔ 2020 میں سپریم کورٹ نے سی بی آئی، ای ڈی اور این آئی اے سمیت دیگر تفتیشی ایجنسیوں کے دفاتر میں سی سی ٹی وی کیمرے اور ریکارڈنگ کا سامان نصب کرنے کی ہدایت دی تھی۔
سپریم کورٹ کی ہدایت
سپریم کورٹ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی کہ ملک بھر کے ہر تھانے میں داخلی اور خارجی راستوں، مین گیٹ، لاک اپ، کوریڈور، لابی اور ریسپشن کے علاوہ کئی دیگر مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ کوئی بھی کیمرے کی نظروں سے بچ نہ سکے۔ اس کا مقصد حراست میں پوچھ گچھ کے دوران شفافیت کو برقرار رکھنا اور انسانی حقوق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی یا پولیس کی زیادتیوں کو روکنا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کو پولیس تفتیش اور عدالتی کارروائی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کئی اہم شواہد فراہم کرتی ہے جس سے کسی کیس میں فرق پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

