Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

عوامی مطالبہ ہے کہ آوارہ کتوں کے بڑھتے خطرے پر قابو پانے کے لیے فوری، مؤثر اور انسان دوست پالیسی اپنائی جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔

عدالت نے زور دیا کہ رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کی صورت میں واضح اور مؤثر سزائیں تجویز کی جائیں تاکہ ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ اگر کسی شخص کو مجرم قرار دیا جاتا ہے، تب بھی وہ قانون کی حکمرانی کا حقدار ہے۔

بہارمیں الیکشن کمیشن کے ذریعہ چل رہی ووٹرلسٹ خصوصی نظرثانی مہم یعنی ایس آئی آرسے متعلق سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی ہے۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں کہا کہ الیکشن کیشن نے ہمارے مشوروں پرعمل کیا ہے۔ اس کی طرف سے حلف نامہ بھی دیا گیا ہے۔

آج کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا 11 اگست کا حکم جاری رہے گا یا مزید سماعت تک معطل ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ عوامی حفاظت اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے توازن کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔

صدر جمہوریہ نے سپریم کورٹ سے یہ وضاحت چاہی ہے کہ آیا صدر یا گورنر کو کسی بل کی منظوری کے لیے وقت کا پابند کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

انڈیا الائنس نے سپریم کورٹ کے سابق جج بی سدرشن ریڈی کو نائب صدر عہدے کا امیدوار بنائے جانے کا اعلان کیا۔ این ڈی اے امیدوار سی پی رادھا کرشنن کا مقابلہ تلنگانہ سے آنے والے جسٹس بی سدرشن ریڈی سے ہوگا۔

سپریم کورٹ نے منگل کے روز دہلی کے مہرولی میں درگاہ اوربابا فرید چلؔاگاہ کے انہدام کے خلاف دائردرخواستوں پرسماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ ہم اس حکم کو جاری رکھیں گے کہ موجودہ ڈھانچے میں مزید کوئی تبدیلی یا اضافہ نہیں ہونا چاہئے، لیکن جو کچھ ہے اسے محفوظ رکھا جائے، کوئی 13ویں صدی کی یادگارکوگرانے کا سوچ بھی کیسے سکتا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اس سڑک پر 12 گھنٹے طویل ٹریفک جام لگتا ہے۔ عدالت نے 14 اگست کو اس معاملے پر سماعت میں دلچسپی نہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ جب سڑکیں اچھی حالت میں نہیں ہیں تو عوام سے ٹول کیسے لیا جا سکتا ہے؟ لوگ لمبے جام میں پھنسنے پر مجبور ہیں۔

سپریم کورٹ نے بہارووٹرلسٹ پرنظرثانی (ایس آئی آر) کی سماعت کی۔ ڈرافٹ لسٹ سے 65 لاکھ لوگوں کے نام نکال دیئے گئے ہیں۔ ہٹائے گئے لوگوں کے ناموں کے حوالے سے سپریم کورٹ نے کہا کہ ہٹائے گئے 65 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا پبلک کیوں نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اسے پبلک کریں۔ اس پرالیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹھیک ہے اگرآپ کا حکم ہے تو ہم کریں گے۔