Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سپریم کورٹ نے پیر کے روز راہل گاندھی کے خلاف دسمبر 2022 کی بھارت جوڑو یاترا کے دوران فوج کے بارے میں ان کے تبصروں پر لکھنؤ کی ایک عدالت میں کارروائی پر روک لگا دی۔

اگر بولسونارو پر عائد الزامات کی بات کی جائے تو ان پر اور ان کے 33 ساتھیوں پر تختہ الٹنے کی سازش، پرتشدد جرائم میں شامل ہونے، جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش، اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

راہل گاندھی نے یہ بیان16 دسمبر 2022 کو اپنی بھارت جوڑو یاترا کے دوران میڈیا اور عوام کے سامنے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’لوگ بھارت جوڑو یاترا، گہلوت، سچن پائلٹ پر سوال کرتے ہیں لیکن چین نے 2000 مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا، 20 جوان شہید ہوئے، اروناچل میں فوجیوں کو پیٹا گیا، اس پر کوئی سوال نہیں کرتا۔‘‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ موجودہ وزیر اعظم کے خلاف الزامات قابل نفرت اور قابل مذمت ہیں اور اس سے پارٹی، اس کے اراکین اور اس کے عہدیداروں کی شبیہ متاثر ہوتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ پی ایم مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔

جسٹس دتہ کے اس نکتے پر سینئر ایڈوکیٹ کولن گونسالویس نے کہا کہ راجوبالا کے معاملے کو بھی روہنگیا کیس کی طرح دیکھا جانا چاہئے کیونکہ ان کے شوہر کو آسام میں 30 روہنگیاؤں کے ساتھ طویل عرصے سے حراست میں رکھا گیا ہے۔

عدالت کے فیصلے پر مولانا قیوم قاسمی نے کہا کہ ہمیں جو امید تھی، اس طرح سے فیصلہ نہیں آیا۔ ہیمنت کرکرے نے جو امید کی کرن دکھائی تھی وہ ہمارے حق میں نہیں آئی۔ مالیگاؤں کے متاثرین غریب اور مظلوم ہیں، لیکن ان کے حق میں فیصلہ نہیں آیا۔ اب ہم سپریم کورٹ جائیں گے۔

نوکریوں کے لیے زمین کے معاملے میں الزام لگایا گیا ہے کہ بہار کے مختلف باشندوں کو 2004-2009 کے دوران ملازمتیں دی گئیں کیونکہ انہوں نے یا ان کے خاندان کے افراد نے اپنی زمین اس وقت کے وزیر ریلوے لالو پرساد یادو کے خاندان کے افراد کے نام منتقل کی تھی۔

داخلی تحقیقاتی کمیٹی نے جسٹس ورما کو دہلی کی رہائش گاہ سے نقدی کی وصولی کے معاملے میں بدعنوانی کا قصوروارپایا تھا۔ یہ واقعہ مارچ میں پیش آیا تھا، جب مبینہ طورپر ان کی سرکاری رہائش گاہ سے بھاری مقدارمیں جلے ہوئے کرنسی نوٹ ملے تھے۔ اس دوران جسٹس ورما دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس تھے۔

ابتدائی طور پر، جسٹس دتا نے ایک طریقہ کار پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہاکہ یہ درخواست دائر نہیں کی جانی چاہیے تھی۔ درخواست میں تین فریقین ہیں، آپ کا بنیادی مسئلہ سپریم کورٹ کے ساتھ ہے۔سبل نے کہا کہ وہ ضروری تبدیلیاں کریں گے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے، جس میں تحریر ہے کہ وزارت اطلاعات ونشریات نے ان کی سرٹیفکیٹ پر نظرثانی کی درخوست پرفیصلہ صادر کرتے ہوئے فلم سے مزید 6 سین کٹ کئے جانے کی فلم پروڈیوسرکو ہدایت دی ہے۔