Bharat Express DD Free Dish

LGBTQ Case: ہم جنس پرستوں کی شادی کیس میں دائر نظرثانی کی درخواست پر 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں ہوگی سماعت، عدالت نے قانون کو منظور کرنے سے کردیا تھاانکار

17 اکتوبر 2023 کو سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

LGBTQ کیس کی سماعت 10 جولائی کو ہوگی۔

: سپریم کورٹ ہم جنس پرستوں کی شادی سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کے فیصلے کے بعد دائر نظرثانی درخواست کی سماعت 10 جولائی کو کرے گی۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس ہیما کوہلی، جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس پی ایس نرسمہا پر مشتمل سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔

آپ کو بتا دیں کہ 17 اکتوبر 2023 کو سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں کوئی فیصلہ دینے کے بجائے یہ معاملہ پارلیمنٹ اور ریاستوں پر چھوڑ دیا تھا۔ آئینی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ عدالت LGBTQ+ کی شادی کو جائز نہیں سمجھ سکتی، کیونکہ یہ قانون سازی کے معاملات کے تحت آتی ہے۔

آئینی بنچ نے یہ باتیں کہی تھیں۔

آئینی بنچ نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کو برقرار رکھے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرے۔ آئینی بنچ نے کہا تھا کہ جو قانون آج موجود ہے وہ ہم جنس جوڑوں کے شادی کرنے یا سول یونین میں شامل ہونے کے حق کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ اس کو فعال کرنے کے لیے قانون بنائے۔

آئینی بنچ نے یہ بھی کہا کہ قانون ہم جنس جوڑوں کے بچوں کو گود لینے کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتا۔ تمام جج اس بات پر متفق تھے کہ شادی کا کوئی حق نہیں ہے اور ہم جنس جوڑے اسے بنیادی حق کے طور پر دعویٰ نہیں کر سکتے۔ آئینی بنچ نے اسپیشل میرج ایکٹ کی دفعات کو چیلنج کرنے کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔ ہم جنس پرستوں کی شادی کے حوالے سے کل 21 درخواستیں دائر کی گئیں۔ جسے آئینی بنچ نے 3:2 کی اکثریت سے دیا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read