Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

چیف جسٹس گوئی کا یہ خطاب نالسار جیسے اعلیٰ ادارے کے لیے ایک یادگار موقع بن گیا، جو نہ صرف قانون کے طالبعلموں کو بلکہ اساتذہ اور حاضرین کو بھی گہری بصیرت فراہم کرتا ہے۔

کیرلا کی نرس نمیشا پریا کو 16 جولائی کو یمن میں پھانسی ہونی ہے۔ اس درمیان سپریم کورٹ نے نمیشا کے اہل خانہ کی عرضی قبول کرلی ہے۔ ایسے میں اب سپریم کورٹ ان کی عرضی 16 جولائی کو سماعت کرے گا۔

سپریم کورٹ میں کل 11 عرضیاں سنوائی کے لئے لگی تھیں۔ ان میں این جی او ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس اورپیپلزیونین سول لبرٹیزکے علاوہ کانگریس، آرجے ڈی اورٹی ایم سی جیسی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کی بھی عرضی تھی۔ عرضی گزارفریق نے دلیل دی کہ الیکشن کمیشن ناگرکتا یعنی شہریت کی جانچ نہیں کرسکتا۔

سپریم  کورٹ میں بہار ووٹر لسٹ کی نظ ثانی کیس پر آج سماعت ہوئی اور دو رکنی بنچ نے آج کے سماعت کے بعد یہ فیصلہ کیا یہ نظرثانی کا عمل جاری رہے گا البتہ اس میں آدھار کارڈ اور راشن کارڈ کو بھی قبول کرنا ہوگا۔اس کے بعد بنچ نے کیس کی سماعت 28 جولائی تک ملتوی کردی ہے۔

ابھیشک منوسنگھوی نے دلیل دی کہ ووٹر لسٹ سے کسی کو خارج کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ میں آکر کسی کے خلاف اپنے اعتراض کا ثبوت دوں گا۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن سماعت کے لیے نوٹس جاری کرے گا۔ لیکن یہاں اجتماعی طور پر چار سے سات کروڑ لوگوں کو حذف کر دیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے بہارکے اسپیشل انٹینسیوریویژن (ایس آئی آر) کی سماعت کی۔ درخواست گزارنے ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے عمل پر سوالات اٹھائے، ساتھ ہی آدھارکارڈ کو تسلیم نہ کرنے پر سوال اٹھایا گیا۔

درخواست گزاروں کے مطابق، 25 جولائی تک اندراج فارم جمع نہ کرانے والوں کے نام یکم اگست 2025 کو شائع ہونے والی مسوداتی انتخابی فہرست سے خارج کر دیے جائیں گے، جس سے تقریباً تین کروڑ ووٹروں کے ووٹنگ کے حق سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔

کپل سبل نے سینئر وکلاء ابھیشیک منو سنگھوی، شاداب فراصت اور گوپال شنکر نارائنن کے ساتھ سپریم کورٹ میں اس مسئلہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس عمل کی وجہ سے لاکھوں لوگوں، خاص کر خواتین اور غریب طبقے کے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جانے کا امکان ہے۔

جسٹس چندرچوڑ، جو نومبر 2024 میں چیف جسٹس کے طور پر ریٹائر ہوئے، نے 18 دسمبر 2024 کو اپنے جانشین جسٹس سنجیو کھنہ کو خط لکھ کر 30 اپریل 2025 تک جگہ خالی کرنے کے لیے وقت مانگا تھا، اور اس کی اجازت دی گئی تھی۔

عرضی گزار نے اندازہ لگایا ہے کہ 3 کروڑ سے زیادہ رائے دہندگان، خاص طور پر پسماندہ گروہوں جیسے ایس سی، ایس ٹی اور تارکین وطن مزدوروں کو ایس آئی آر کے حکم میں سخت شرائط کی وجہ سے ووٹ دینے کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔