Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

عدالت نے یہ بھی کہا کہ جب تک حل کی اسکیم مکمل طور پر نافذ نہیں ہو جاتی، CoC کا وجود قائم رہے گا۔ چیف جسٹس گوئی نے کہا کہ JSW نے کمپنی میں بطور کارپوریٹ قرضدار بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جس کے باعث BPSL اب ایک منافع بخش کمپنی بن چکی ہے۔

ملک کی سپریم کورٹ نے آج فروری2020 کے دہلی فسادات میں مبینہ سازش سے متعلق یواے پی اے کیس میں کارکنوں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اورمیران حیدرکی درخواستوں پرسماعت کی۔ سپریم کورٹ نے ان ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پردہلی پولیس کونوٹس جاری کیا۔ کیس کی اگلی سماعت 7 اکتوبرکوہوگی۔

یہ عرضی "سیفٹی میٹرز فاؤنڈیشن" نامی ایک ادارے نے دائر کی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس حادثے کو صرف پائلٹ کی غلطی کہہ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ سے درج ذیل مطالبات کیے گئے ہیں:

یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی و سماجی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ کا فیصلہ، ملک میں آزادی اظہار، سیاسی اختلاف اور انسداد دہشت گردی قوانین کے استعمال کے درمیان توازن کو لے کر ایک بڑی مثال قائم کر سکتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند دیگر انصاف پسند تنظیموں واداروں کے ساتھ مل کر اس غیر آئینی قانون کے مکمل خاتمے تک قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہم حکومت سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ وہ آئینی اصولوں اور مسلمانوں کے تحفظات کی روشنی میں اس قانون کو فوری طور پر واپس لے۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں وقف ترمیمی قانون 2025 کے متنازعہ شقوں پر عارضی پابندی عائد کی ہے، جن پر وسیع پیمانے پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔

آئی بی کے ریٹائرڈ اسپیشل ڈائرکٹر مَلَے سنہا کو جم خانہ گھپلوں کی تحقیقات کے لیے مرکزی حکومت کے کچھ نوکرشاہوں کی کرم فرمائی سے جم خانہ کلب کا بورڈ ممبر بنایا گیا تھا۔ بعد میں وہ بورڈ کے دیگر اراکین کی رضامندی سے کلب کے صدر بن گئے۔

مولانا ارشد مدنی نے اس قانون کو بھارتی آئین پر براہ راست حملہ قرار دیا، جو اقلیتوں کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے۔

عدالت نے زیریں عدالتوں کو بھی ہدایت دی کہ وہ بغیر ٹھوس وجوہات کے فوجداری انکوائری شروع کرنے کے احکامات نہ دیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی اتر پردیش ودھان پریشد سکریٹریٹ کی بھرتی کے معاملے میں سی بی آئی انکوائری کا حکم کالعدم ہو گیا ہے۔

ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ چونکہ سپریم کورٹ نے پورے ایکٹ کے نفاذ پر مکمل پابندی نہیں لگائی، اس لیے ایکٹ کی کئی متنازعہ دفعات کے غلط استعمال کا اندیشہ برقرار ہے۔