Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کا بھی یہ فیصلہ ہے کہ کسی بھی شہری کوقومی ترانہ یا کوئی ایسا گیت گانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، جو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ وطن سے محبت الگ چیز ہے اور اس کی عبادت دوسری چیز۔ مسلمانوں کو اس ملک سے کتنی محبت ہے اس کے لئے ان کو کسی کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں مدھیہ پردیش کے رکن اسمبلی اروند پٹیریا پر لگے الزامات کی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا اشارہ دیا ہے۔

انڈیگو کی ایک ہزار سے زائد پروازوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی کے بعد دائر عوامی مفاد کی درخواست پر سپریم کورٹ نے سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ ایئر لائنز کا آپریشن اس کے دائرۂ کار میں نہیں آتا، یہ حکومت کا معاملہ ہے اور حکومت پہلے ہی اس کی جانچ کر رہی ہے۔

شرجیل امام، عمرخالد، گلفشاں فاطمہ اور شفاءالرحمٰن پر دہلی فسادات کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ہونے کے لئے دہشت گردی مخالف قانون یواے پی اے اور آئی پی سی کے التزامات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ان فسادات میں 53 لوگ مارے گئے تھے اور700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

سپریم کورٹ نے ایک عیسائی فوجی افسر سیموئل کملیسن کی برطرفی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج ایک سیکولر اور نظم و ضبط رکھنے والی فورس ہے، جس میں حکم عدولی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے تبصرہ کیا کہ ان کے رویّے نے سپاہیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔

پیگاسس جاسوسی معاملے میں انہوں نے ماہرین پر مشتمل سائبر کمیٹی بنانے کا فیصلہ سنانے والی بنچ میں حصہ لیا۔جسٹس سوریہ کانت کی حالیہ تقرری کو عدالتی اصلاحات، شفافیت اور صنفی مساوات کے فروغ میں اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت کے 52ویں CJI بی آر گوی کا آج مدت کار مکمل ہو رہا  ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے ریٹائرمنٹ منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کا سرکاری عہدہ قبول نہیں کریں گے۔

دہلی فسادات معاملے میں شرجیل امام کی ضمانت پر سپریم کورٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ شاہین باغ احتجاج ٹرمپ کے دورے کے وقت ہی پلان کیا گیا، یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سازش تھی۔ اس کے ویڈیو ثبوت بھی پولیس نے پیش کیے۔

سپریم کورٹ نے اراولی میں نئی کان کنی لیز کو لے کر ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ نئی کان کنی لیز پر روک لگاتے ہوئے، عدالت نے مرکزی حکومت کو ”پائیدار کان کنی پلان” بنانے کی ہدایت دی ہے۔

عدالت نے کہا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 200 اور 201 کے تحت صدر یا گورنر کو بل پر کارروائی کے لیے کسی وقت کی حد کا پابند نہیں بنا سکتی۔ آئین نے جان بوجھ کر اس عمل کو لچکدار رکھا ہے اور عدالتی ڈیڈ لائن اختیارات کی علیحدگی کے اصول کے خلاف ہے۔