Bharat Express DD Free Dish

Smriti Irani

خواتین ریزرویشن بل لوک سبھا کےبعد راجیہ سبھا میں بھی دلچسپ بحث ہوئی ۔حکمراں اور اپوزیشن کی طرف سے مسلسل اس بل کے حق میں بیانات دئے گئے ،۔اپوزیشن کی جانب سے کچھ اعتراضات بھی درج کرائے گئے ،اس بیچ خبر یہ ہے کہ راجیہ سبھا میں جیسے ہی اس بل کو منظوری ملے گی اس کے فوراً بعد خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کی جائیں گی۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے کہا کہ ہم نے مضبوط بل ایوان میں رکھا ہے۔ جبکہ یوپی اے کمزور بل لے کرآئی تھی۔

ملکارجن کھرگے نے پرچم کشائی میں شرکت نہ کرنے کے لیے پہلے سے طے شدہ پروگرام کا حوالہ دیا۔ انہوں نے پروگرام کا دعوت نامہ تاخیر سے ملنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل پی سی مودی کو لکھے گئے خط میں کھرگے نے کہا کہ انہیں نائب صدر کا دعوت نامہ دیر سے ملا

دہلی کے آل انڈیا  فائن آرٹس اینڈ کرافٹ سوسائٹی میں آرتی زیوری  کی شاندار پینٹنگس نے لوگوں کو سوچنے پر مجبورکردیا ہے۔

حال ہی میں اسمرتی ایرانی نے پارلیمنٹ میں مبینہ فلائنگ کس کو لے کرراہل گاندھی کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ راہل گاندھی کے لیے شرم کی بات ہے نہ کہ میرے یا کسی دوسری خاتون رکن  پارلیمنٹ کے لیے۔ بی جے پی نے راہل گاندھی پر ایوان کے اندر ناشائستہ اشارے (فلائنگ کسز) کرنے کا الزام لگایا تھا۔

اسمرتی ایرانی نے  ایک پروگرام  میں کہا کہ "ایک ایسا شخص جو پارلیمنٹ میں مہذب سلوک نہیں دکھا سکتا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ واقعہ ان (راہل گاندھی) کے لئے شرمناک ہے نہ کہ میرے یا کسی دوسری خاتون رکن پارلیمنٹ کے لئے"۔ انہیں شرم آنی چاہیے۔ "

کانگریس لیڈر کی تقریر کے بعد مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 'اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد پارلیمنٹ سے باہر جاتے ہوئے انہوں نے خواتین ممبران پارلیمنٹ کی طرف فلائنگ کس کے اشارے کیے ہیں۔

نیتو سنگھ نے کہا- ”جو خاتون دوست اسمرتی ایرانی کی سہیلی تھی، اس کے شوہر کو ہی اسمرتی ایرانی لے کربھاگ گئیں۔ پھر شادی کی۔ یہ کسی سے چھپا نہیں ہے۔ ایسی خاتون ہمارے راہل جی پر تنقید کرتی ہے۔ ایسی خاتون کو تو خود ہی شرم آنی چاہئے۔“

No Confidence Motion: سال 2019 کے عام انتخابات میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی روایتی سیٹ امیٹھی سے الیکشن ہراچکی اسمرتی ایرانی پارلیمنٹ میں بھی راہل گاندھی کو اڈانی کے موضوع پر گھیرتے ہوئے نظرآئیں۔

اسمرتی ایرانی نے کہا کہ ہمارے ملک کی پارلیمانی تاریخ میں آج تک 'بھارت ماتا کے قتل' کی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی اس معاملے پر میز تھپ تھپائی گئی۔