Bharat Express DD Free Dish

Shahbaz Sharif

بھارت نے درآمدات پر پابندی کے اپنے فیصلے کے ذریعے واضح کیا ہے کہ جب تک پاکستان دہشت گردی کی حمایت جاری رکھے گا، تب جب تک اس سے کسی بھی طرح کے تعلقات  چاہے وہ تجارتی ہو یا سفارتی۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا آفیشل یوٹیوب چینل بھی بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ اب چینل پر صرف یہ معلومات نظر آرہی ہیں - 'یہ مواد اس ملک میں قومی سلامتی یا امن عامہ سے متعلق حکومتی احکامات کی وجہ سے دستیاب نہیں ہے۔

پی او کے کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے کہا کہ ان کی حکومت کی انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومت لوگوں کو خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے انتظامات کر رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ دونوں ممالک کا معاملہ ہے اور وہ اس معاملے میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے۔

کشمیرکے پہلگام دہشت گردانہ حملے پر پاکستان نے کہا ہے کہ ہندوستان اگرکوئی ایڈوینچرکرنا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے بھی تیارہے۔ ایسا ہی انہوں نے گزشتہ بار بھی کیا تھا۔

پاکستانی وزیر نے دعویٰ کیا کہ یہ کوئی منظم حملہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ملک کے علما نے بھی ایسی کارروائیوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے۔ اسلام کے نام پر فاسٹ فوڈ فرنچائزز کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور ان پر غصہ نہیں نکالا جانا چاہیے۔ نوجوانوں کو انتہا پسند عناصر کے بہکاوے میں آنے سے گریز کرنا چاہیے۔‘‘

آمنہ بلوچ جمعرات کے روز ایف او سی کے بعد یونس اور خارجہ امور کے مشیر توحید حسین سے بھی ملاقات کر سکتی ہیں۔ ستمبر میں یونس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران دونوں لیڈران نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کی تھا۔

حج منتظمین نے وزیر اعظم شہباز شریف سے معاملے میں مداخلت کرنے اور مسئلہ حل کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔ وہیں، وزیراعظم نواز شریف نے نجی حج کوٹہ میں کمی کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے نجی حج کوٹہ حاصل کرنے میں ناکامی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

پاکستان کے بلوچستان میں منگل (11 مارچ) کو بلوچ باغیوں نے پاکستان کے بلوچستان میں 500 سے زائد مسافروں کولے جانے والی ٹرین کوہائی جیک کرلیا۔

جنگ بندی کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کومکمل ہونے والا ہے۔ تاہم جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اتوارکے روزاسرائیلی فوج نے اسی سلسلے میں کارروائیوں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔