Bharat Express DD Free Dish

India-Pakistan Tensions: خوف میں پاکستان،پاک مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں کی آمد پر پابندی،تمام مدارس 10 دنوں کیلئے بند،راشن کا ذخیرہ رکھنے کی ہدایت

پی او کے کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے کہا کہ ان کی حکومت کی انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومت لوگوں کو خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے انتظامات کر رہی ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھی سیاح کشمیر کے کئی مقامات کا دورہ کر رہے ہیں اور اس کی ویڈیوز اور تصاویر میڈیا کے ذریعے مسلسل ہمارے سامنے آ رہی ہیں۔ جبکہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔صورتحال یہ ہے کہ سیاحوں کو وادی نیلم اور پی او کے میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے آس پاس کے علاقوں میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اشارہ دیا تھا کہ ان کی حکومت کسی بھی گڑبڑ کی صورت میں پی او کے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کو لے کر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اس کے پیش نظر پی او کے میں بھی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے علاقے کے تمام مدارس کو 10 دن کے لیے بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پاکستانی اخبار دی ڈان کے مطابق علاقے میں ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، ریستورانوں اور شادی ہالوں کے مالکان نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے حملہ کیا تو وہ اپنے ادارے فوج کے حوالے کر دیں گے۔واضح رہے کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے لیے اپنی فضائی حدود بھی بند کر رکھی ہیں۔ پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے دو بڑے شہروں کراچی اور لاہور کی فضائی حدود مئی تک روزانہ 8 گھنٹے کے لیے بند رہے گی۔

راشن کا ذخیرہ رکھنے کی ہدایات

پی او کے کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے کہا کہ ان کی حکومت کی انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومت لوگوں کو خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے انتظامات کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو 2 ماہ کے لیے راشن کا ذخیرہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read