شہباز شریف حکومت میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ہندوستان سے ثبوت مانگنے کا ڈراما شروع کردیا ہے۔
Pahalgam Terror Attack Update: جموں وکشمیر کے پہلگام دہشت گردانہ حملہ سے متعلق ہندوستان کی جوابی کارروائی پرپاکستان نے چیلنج کیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ اگرہندوستان کے پاس حملہ کے کوئی ثبوت ہیں تو پیش کرے۔ نائب وزیراعظم اوروزیراسحاق ڈار نے قومی سلامتی کی میٹنگ کے بعد جمعرات (24 اپریل، 2025) کو ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا، ”ہندوستان ہمیشہ کی طرح الزام لگا دیتا ہے، اس بار بھی وہی کھیل کھیلا ہے۔ اگراس کے پاکستان کے شامل ہونے کا کوئی ثبوت ہے تو اسے ہمارے ساتھ ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرے۔“ اپنی پریس کانفرنس میں وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے این ایس سی کے فیصلوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہندوستان کواسی طرح جواب دیا ہے۔ اس دوران ان کے ساتھ وزیردفاع خواجہ آصف، وزیرقانون اعظم نذیر ترار، وزیراطلاعات عطاء اللہ ترار اوراٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) منصوراعوان بھی موجود تھے۔
پاکستان کسی بھی چیلنج کے لئے تیار: وزیر
انہوں نے کہا، “ہم جانتے ہیں کہ ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں ان کی حمایت کررہی ہیں اور غیرملکی لوگ ایمپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس (آئی ای ای ڈی) یا دیسی دھماکہ خیزآلہ برآمد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آپ تصورکر سکتے ہیں کہ وہ انہیں کہاں برآمد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی چیلنج کا جواب دینے کے لئے تیارہیں۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حالانکہ ہندوستان نے اس حادثہ کے لئے راست طورپرپاکستان کا نام نہیں لیا ہے، پھر بھی میڈیا اور دوسرے لوگ ملک کو قصوروارٹھہرا رہے ہیں۔ اگرہندوستان باضابطہ طور پر پاکستان کا نام لیتا ہے تو اس کا جواب بھی ملے گا۔ پاکستان کو خود کی حفاظت کرنے (سیلف ڈیفنس) کا پورا اختیارہے۔ خواجہ آصف نے یہ بھی کہا، “نریندرمودی دنیا کے واحد لیڈرہیں، جنہیں امریکہ نے ویزا دینے سے انکار کردیا اور وہ بھی دہشت گردی کی بنیاد پر۔”
پاکستان نے پھر بہایا دہشت گردی کا آںسو
وزیردفاع نے کہا، “پاکستان میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان دونوں مقامات پردہشت گردی پھیلا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ممنوعہ دہشت گرد تنظیمیں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اسپانسرز اورلیڈر”ہندوستان میں بیٹھے ہیں اور انہیں وہاں علاج ملتا ہے۔” انہوں نے کہا، ”یہ قیاس آرائی نہیں ہے، یہ تلخ حقیقت ہے۔”
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



