چین نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی منصفانہ تحقیقات کے پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھی اس معاملے پر مسلسل دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس کی تحقیقات پاکستان اور بھارت سے نہیں بلکہ ایک تیسرے فریق کے طور پر ایک بین الاقوامی کمیٹی سے کرانی چاہیے۔ 22 اپریل 2025 کو پہلگام کی وادی بائسرن میں دہشت گردانہ حملے میں 28 نہتے لوگ مارے گئے تھے۔
چین کے وزیر خارجہ کی اسحاق ڈار سے فون پر بات
گلوبل ٹائمز کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اتوار کو پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے فون پر بات کی اور اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ رپورٹ کے مطابق چین کشمیر کے علاقے میں دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے جلد آغاز کی حمایت کرتا ہے۔ اسے امید ہے کہ دونوں فریق تحمل کا مظاہرہ کریں گے، ایک دوسرے کی طرف بڑھیں گے اورکشیدگی کو کم کرنے کے لیے کام کریں گے۔
وانگ یی نے کیا کہا؟
وانگ یی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور چین پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط دوست اور ہرموسمی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت دار کی حیثیت سے چین پاکستان کے جائز سیکورٹی خدشات کو پوری طرح سمجھتا ہے اور اس کی خودمختاری اور سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لئے اس کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اسحاق ڈار نے وانگ یی کو موجودہ علاقائی صورتحال پر بریفنگ دی۔اسحاق ڈار نے چین کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت کی تعریف کی اور تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا ذکر کیا۔
پاکستان نے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا
چین کی طرف سے یہ حمایت شہباز شریف کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی ‘آزادانہ تحقیقات’ یا غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ دونوں ممالک کا معاملہ ہے اور وہ اس معاملے میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


