Bharat Express DD Free Dish

Sambhal Jama Masjid Case

سپریم کورٹ نے 21 سے 23 اگست کے درمیان ”سمادھان سماروہ“ (لوک عدالت) کے نام سے منعقد ہو رہے لوک عدالت پروگرام کے لئے ان معاملوں کے فریق کو بھی نوٹس بھیجا تھا، لیکن سبھی نے نا اتفاقی ظاہر کی ہے۔ سپریم کورٹ نے 21 سے 23 اگست تک منعقد ہونے والے ”سمادھان سماروہ“ (لوک عدالت) پروگرام کے لئے ان مقدمات کے فریقوں کو بھی نوٹس بھیجا تھا، تاہم سبھی نے ثالثی کے ذریعہ معاملے کو حل کرنے سے انکارکر دیا۔

سنبھل میں گزشتہ سال ہوئے فساد کے بعد بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں سنسنی خیزدعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو کمیٹی نے جمعرات کو سونپ دی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکرکیا گیا ہے کہ فساد اورخوشنودی کی سیاست نے سنبھل کی آبادی کوبدل دیا ہے۔

سنبھل جامع مسجد کمیٹی کے صدرظفرعلی ایک بار پھرتنازعہ میں گھرگئے ہیں۔ ظفرعلی اوران کے 50 سے 60 حامیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان پر جلوس نکالنے کا الزام ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ سے سنبھل جامع مسجد کے صدر ایڈوکیٹ ظفر علی کو ضمانت مل گئی ہے۔ جسٹس سمیرجین کی سنگل بینچ نے ضمانت عرضی کو منظوری دی ہے۔ 23 مارچ 2025 کو پولیس نے تفتیش کے دوران ظفرعلی کوگرفتارکرلیا گیا۔

چندوسی عدالت نے اترپردیش کے سنبھل میں ہری ہرمندر-جامع مسجد تنازعہ کی اگلی سماعت 21 جولائی کوطے کی گئی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ ہائی کورٹ نے مسلم فریق کی درخواست کومسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے سروے کے حکم کوبرقراررکھا ہے۔ اس معاملے میں ایس آئی ٹی نے 1100 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں ایس پی ایم پی سمیت 22 لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔

سنبھل جامع مسجد سروے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے مسلم فریق کی نظرثانی کی عرضی کو خارج کرکے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے ریویو پٹیشن میں مسلم فریق کی دلیلوں کو نا منظور کردیا ہے۔

اترپردیش کی سنبھل شاہی مسجد کے پاس موجود کنویں کے تنازعہ سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ مسلم فریق نے کنویں سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ کنواں مذہبی استعمال کے لئے ہے۔ وہیں، سپریم کورٹ نے کہا کہ سبھی لوگ کنویں کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی عدالت نے 2 ہفتے میں جواب مانگا ہے۔

جسٹس روہت رنجن اگروال نے سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ سنبھل کی اس جامع مسجد کو محکمہ آثارِ قدیمہ کے حوالے کرنے کے تعلق سے 1927 میں حکومتی انتظامیہ اور مسجد کمیٹی کے درمیان کیے گئے معاہدے کی اصلی کاپی عدالت کے سامنے پیش کریں۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کو سنبھل واقع شاہی جامع مسجد سے متعلق عرضی پرسماعت کی۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس روہت رنجن اگروال کی بینچ کررہی ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت کی تاریخ 10 مارچ رکھی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے اے ایس آئی کی نگرانی میں سنبھل مسجد میں صاف صفائی کرائے جانے کے مطالبہ کو منظور کرلیا ہے۔ حالانکہ عدالت نے ابھی بھی مسجد کے رنگ وروغن کی اجازت نہیں دی ہے۔