Bharat Express DD Free Dish

Sambhal violence case: سنبھل تشدد کیس میں ایک اور ملزم (سلیم) گرفتار، سی او انوج چودھری پر فائرنگ کا الزام

سنبھل تشدد معاملے میں پولیس نے ایک اور ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم کا نام سلیم ہے۔ سلیم پر سنبھل کے سی او انوج چودھری پر گولی چلانے کا الزام ہے۔ سنبھل تشدد کیس میں اب تک کل 52 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سنبھل تشدد کیس میں ایک اور ملزم (سلیم) گرفتار، سی او انوج چودھری پر فائرنگ کا الزام

Sambhal violence case: سنبھل تشدد معاملے میں پولیس نے ایک اور ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم کا نام سلیم ہے۔ سلیم پر سنبھل کے سی او انوج چودھری پر گولی چلانے کا الزام ہے۔ سنبھل تشدد کیس میں اب تک کل 52 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمین سے ایک 12 بور پستول اور 5 کارتوس برآمد ہوئے ہیں۔ 12 بور کا خول بھی برآمد ہوا ہے۔ ملزم پولیس سے کارتوس لوٹ کر فرار ہو گیا تھا۔

معلومات کے مطابق ملزم سنبھل تشدد کے بعد سے فرار تھا۔ وہ دہلی کے سیلم پور علاقے میں چھپا ہوا تھا۔ پولیس اسے تلاش کر رہی تھی۔ وہ خودسپردگی کرنے والا تھا لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہی اسے پولیس نے پکڑ لیا۔ سلیم کے خلاف 7مقدمات درج ہیں۔ اس کے خلاف قتل کی کوشش، ڈکیتی اور گائے ذبیحہ کے مقدمات بھی درج ہیں۔ ملزم سلیم پر گینگسٹر ایکٹ بھی لگا دیا گیا ہے۔ یہی نہیں سنبھل تشدد کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی ملزم سلیم کو دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں- Sambhal Shahi Jama Masjid controversy: سنبھل شاہی جامع مسجد کمیٹی نے الہ آباد ہائی کورٹ میں دائر کی درخواست، کیے یہ مطالبات

مسجد کے سروے کا تنازعہ

شاہی جامع مسجد کے تنازع کا اصل مسئلہ مسجد کے سروے اور اس کے بعد کی کارروائی پر ہے۔ ضلعی عدالت نے پہلے ہی اس معاملے میں سروے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد یہ تنازعہ مزید زور پکڑ گیا۔ مسجد کمیٹی کا الزام ہے کہ یہ سروے اور اس کے بعد کا عمل مناسب قانونی طریقہ کار کے بغیر کیا جا رہا ہے۔ اس مسجد کو لے کر تنازعہ یہ ہے کہ آیا یہ مسجد کسی پرانے ہندو مندر کے اوپر بنائی گئی ہے یا نہیں۔ اس تنازعہ میں ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان اختلافات ہیں۔

-بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read