Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

اپوزیشن نے نیٹ-یوجی پیپرلیک ہونے پرمرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، جس کے بعد مسلسل پانچویں دن پارلیمنٹ ہنگامے کی نذرہوگیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دھرمیندرپردھان کا استعفیٰ، وزیراعظم مودی کی معافی اورمجرموں کے خلاف کارروائی بحث کی شرائط ہیں۔ حکومت بحث چاہتی ہے، لیکن اپوزیشن جوابدہی کی بات کررہا ہے۔

ایوان کے باہر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے حق میں احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم استعفیٰ دیں، اس کے بعد ہی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بامعنی بحث ہو سکتی ہے۔

نیٹ پیپرلیک ہونے پردہلی میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ دریں اثنا، راہل گاندھی کی رہائش گاہ پرانڈیا الائنس کی میٹنگ ہوئی اورتمام شریک لیڈران پُرامن طریقے سے تیس جنوری مارگ پرگاندھی اسمرتی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی بھی راہل گاندھی کی رہائش گاہ پرپہنچیں۔

وزیر اعظم مودی کے اعلان کے بعد راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ آپ ہی نے ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ آپ نے تعلیمی نظام پر مکمل قبضہ ہونے دیا، اسے تباہ ہونے دیا، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی اور اس کے ذمہ دار ہر شخص کو تحفظ فراہم کیا۔

مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے وقت طے کرے، حکومت اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہالزام تراشی نہیں، بلکہ حل پر بحث ہونی چاہیے۔ بحث کے بعد ہمیں ایک ٹھوس پالیسی لے کر آنی چاہیے۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ ملک کے مستقبل کی فکر کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے دھرنے کو کمزور کرنے کے لئے وزیراعظم مودی نے راہل گاندھی کو اپنی رہائش گاہ پر دھرنے پر بٹھا دیا۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ ہم طلبا کے احتجاج کو پوری حمایت دے رہے ہیں۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر بھی جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کا حکم دینے والے اور اسے نافذ کرنے والے، دونوں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں طلبہ کے احتجاج کی گونج سات سمندر پار بھی سنائی دی۔ دنیا کے کئی بڑے بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اس احتجاج کو نمایاں کوریج دیتے ہوئے طلبہ کے اس مظاہرے کو جرات مندانہ قرار دیا۔

کنگنا رناوت نے راہل گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کے استعفے کے مطالبے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی دنیا کے مقبول ترین لیڈروں  میں شمار ہوتے ہیں، ایسے میں آخر وہ استعفیٰ کیوں دیں۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا کہ کانگریس رہنماؤں کے خلاف پولیس کارروائی حکومت کے خوف کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے پیر کے روز مظاہرین پر مبینہ لاٹھی چارج کے معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ کو بھی نشانہ بنایا۔