Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر سیاسی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ پیوش گوئل نے راہل گاندھی کے الزامات کو ’من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا ہے۔ دوسری جانب راہل گاندھی نے اس معاہدے کو کسانوں پر سیدھا حملہ قرار دیا ہے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملک بھر سے آئے مختلف کسان تنظیموں کے لیڈروں سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اس ملاقات میں کسان نمائندوں نے اس معاہدے کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی گفتگو کی اور اسے کسانوں کے مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے جمعرات کو الزام عائد کیا کہ کانگریس اراکین پارلیمنٹ نے زبردستی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے چیمبر میں داخل ہو کر توہین آمیز زبان استعمال کی اور دھمکی دی۔

طویل بحث کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بدھ کے روز لوک سبھا میں تقریرکی۔ انہوں نے بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پربات کی اورحکومت پرتنقید کی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بھارت نے امریکہ کے دباؤ میں یہ معاہدہ کیا اورسب کچھ امریکہ کوبیچ دیا گیا۔

طویل بحث کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بدھ کے روزلوک سبھا میں تقریرکی۔ انہوں نے ہند-امریکہ ٹریڈ ڈیل (تجارتی معاہدہ) پربات کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہندوستان کے اعداد وشمار کی نگرانی کررہا ہے، ڈالرکوچیلنج کیا جا رہا ہے اورامریکہ کے غلبہ کوچیلنج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایوان سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کوبھی مخاطب کیا۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا، ”میں انہیں کچھ نہیں سکھا سکتا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ کون سا نظریہ ان کے کاموں کوچلاتا ہے؟“

سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے نے اپنی متنازع یادداشت ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ سے متعلق جاری بحث کے دوران پہلی بار عوامی طور پر ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر محض سات الفاظ میں کتاب کی موجودہ حیثیت واضح کی اور ساتھ ہی اس کے ناشر پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے باضابطہ بیان کو بھی ری پوسٹ کیا۔

سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے کی مجوزہ سوانح عمری ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ کو لے کر جاری بحث و مباحثے کے درمیان پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا (پی آر ایچ آئی) نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کتاب کی موجودہ حیثیت واضح کر دی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ یہ کتاب نہ تو شائع کی گئی ہے اور نہ ہی کسی بھی شکل میں تقسیم یا فروخت کی گئی ہے اور اس کے کسی بھی حصے کی غیر مجاز گردش قانوناً جرم ہے۔

راہل گاندھی کے دستخط نہ کرنے کے معاملے پر نیوز ایجنسی اے این آئی نے کانگریس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پارلیمانی جمہوریت میں قائدِ حزبِ اختلاف کا اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کے نوٹس پر دستخط کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اسی وجہ سے راہل گاندھی نے اس نوٹس پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ پینگوئن کا دعویٰ ہے کہ کتاب شائع نہیں ہوئی، لیکن یہ کتاب ایمیزون پر دستیاب دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل نروَنے نے خود 2023 میں ٹوئٹ کر کے لوگوں سے کتاب خریدنے کی اپیل کی تھی۔