Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں پیر، 2 فروری کا دن انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ لوک سبھا میں صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ دوپہر 12 بجے شروع ہونے والی اس بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت سیاسی نوک جھونک کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھروراورپارٹی ہائی کمان کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ششی تھرور اہم میٹنگوں سے مسلسل غیر حاضر رہے ہیں۔ اس بار انہوں نے بجٹ سیشن بھی چھوڑ دیا۔ ان کی بے حسی نے سیاسی حلقوں میں متعدد قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے جوکہ کانگریس کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

کانگریس کے سابق لیڈرشکیل احمد نے راہل گاندھی کی قیادت پرسوال اٹھاکرسیاسی گلیاروں میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے پارٹی میں الیکشن میں ہاراور داخلی جمہوریت کی کمی کی بات دوہرائی۔ جواب  میں کانگریس لیڈر ڈاکٹر ادت راج نے شکیل احمد کے الزامات کو بے بنیاد قراردیا اور راہل گاندھی کا بچاو کیا۔

دہلی میں راہل گاندھی اور مَلیکارجن کھڑگے نے بہار کانگریس کے لیڈروں کے ساتھ ایک طویل اجلاس کیا۔ راہل گاندھی نے واضح طور پر کہا کہ بہار میں پارٹی کو مقامی لیڈروں کو ہی مضبوط بنانا ہوگا۔ اجلاس میں پپو یادو نے آر جے ڈی سے الگ شناخت بنانے کی وکالت کی۔

پریاگ راج میں ماگھ میلے کے دوران شنکراچاریہ اوی مکتیشورانندسے متعلق تنازع اور نوئیڈا میں ایک انجینئر نوجوان کی ڈوبنے سے ہونے والی موت نے یوگی حکومت کو بیک فٹ پر لا دیا ہے۔ اپوزیشن مسلسل حکومت سے سوالات کر رہی ہے۔

کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے کیرلا اسمبلی الیکشن کی حکمت عملی سے متعلق ریاست کے اہم لیڈران سے تبادلہ خیال کیا۔ اس اہم میٹنگ سے ششی تھرور غیر حاضر رہے۔ حالانکہ اس کی وجہ ادبی میلہ (ساہتیہ مہوتسو) بتائی گئی ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ششی تھرورکانگریس کے سینئرلیڈران سے مایوس تھے۔ ان کی عدم موجودگی نے پارٹی میں اندرونی اختلافات کی قیاس آرائیوں کوپھرتقویت دے دی ہے، جبکہ الیکشن بے حد قریب ہے۔

فخرالحسن چاند نے کہا کہ مندر اور مسجد کے مسائل پر سماجوادی پارٹی کو کوئی بیان دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان مسائل پر ملک کا مستقبل نہیں ٹکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان بیروزگاری اور مہنگائی جیسی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

نومبر2025 میں ہوئے بہار اسمبلی الیکشن میں این ڈی اے نے بڑی جیت درج کی تھی۔ 243 اراکین اسمبلی میں این ڈی اے کو کل 202 سیٹیں ملی تھیں، جن میں بی جے پی نے 89 اور جے ڈی یو نے 85 سیٹیں جیتی تھیں۔ وہیں، اپوزیشن عظیم اتحاد صرف 35 سیٹوں پرسمٹ گیا تھا۔ آرجے ڈی کو 25 سیٹیں ملیں جبکہ کانگریس 61 سیٹوں پرالیکشن لڑنے کے باوجود محض 6 سیٹیں ہی جیت سکی۔

چنڈی گڑھ میئر کے الیکشن سے پہلے کانگریس اورعام آدمی پارٹی کا اتحاد ٹوٹ گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ پنجاب اسمبلی الیکشن ہے۔ اتحاد کے لئے زبانی رضا مندی دینے کے باوجود باضابطہ اعلان کرنے سے پہلے ہی دونوں پارٹیاں الگ ہو چکی ہیں۔

پنجاب کانگریس کے اندرجاری اندرونی کشمکش کو دور کرنے کے لئے دہلی میں ایک اہم میٹنگ ہونے والی ہے۔ ہائی کمان نے امریندرسنگھ راجا وڈنگ اور چرنجیت سنگھ چنی سمیت کئی سینئر لیڈروں کوطلب کیا ہے۔ اس میٹنگ میں ذات پات کی سیاست کے تنازعہ اور 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔