Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

کانگریس پارٹی ایک بار پھر شدید سیاسی بحران اور اندرونی بغاوت کا سامنا کر رہی ہے۔ بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں ملی کراری شکست کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات نہ صرف تیز ہو گئے ہیں بلکہ قیادت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس صورتحال نے کانگریس کی اعلیٰ کمان، خصوصاً گاندھی خاندان راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ پارٹی کے اندر جاری اس بے چینی نے ملک کے سیاسی منظرنامے میں 1969 کی تاریخی کانگریس بغاوت کی یاد تازہ کر دی ہے۔

جہاں ای ڈی اس کیس کو ایک سنگین اقتصادی جرم اور جائیداد پر قبضہ کرنے کی سازش قرار دے رہی ہے، وہیں کانگریس لیڈران ان الزامات کو ’بہت عجیب‘ بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ینگ انڈین قانونی طور پر قائم کی گئی کمپنی ہے اور اس میں کسی قسم کا ذاتی فائدہ شامل نہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ لین دین سے متعلق دستاویزات، مبینہ کرایے کی رسیدیں اور فنڈ فلو کے پورے سسٹم کا تفصیلی جائزہ لیے بغیر فیصلہ ممکن نہیں۔ عدالت کے مطابق یہ جانچ ضروری تھی تاکہ دیکھا جاسکے کہ ای ڈی کی شکایت PMLA کے تحت قابلِ سماعت ہے یا نہیں۔

راہل گاندھی نے لکھا، “ہر ماں سے جب میں سے ملتا ہوں، وہ یہی کہتی ہے کہ اس کا بچہ زہریلی ہوا میں سانس لے کر بڑا ہو رہا ہے۔ بچے تھکے ہوئے، ڈرے ہوئے اور غصے میں ہیں۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے رابرٹ واڈرا کے خلاف راؤس ایونیو کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ یہ معاملہ برطانیہ میں جائیداد کی خریداری اور سنجے بھنڈاری سے جڑے منی لانڈرنگ کے الزامات سے متعلق ہے۔

چلی کی سابق صدر مشیل بیچلیٹ کو کانگریس نے اندرا گاندھی امن انعام سے نوازا ہے۔ اب اسے لے کر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ آئیے جانیں آخر ایسا کیوں؟

کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کو حال ہی میں 272 ریٹائرڈ ججوں، بیوروکریٹس اور اعلیٰ سرکاری افسروں نے ایک مشترکہ خط لکھا ہے۔ اس خط پر دستخط کرنے والوں میں جموں و کشمیر کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایس پی وید بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس خط کا مقصد کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں بلکہ ملک کے مفاد کی حفاظت ہے۔

ایس آئی آر پر ملک بھر میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ حزب اختلاف نے بہار کے انتخابات سے پہلے کی گئی ایس آئی آر میں تقریباً 65 لاکھ ووٹ کاٹے جانے پر ”ووٹ چوری“ کا الزام لگایا ہے۔ اب ایس آئی آر کا عمل 12 ریاستوں میں جاری ہے۔ کانگریس نے اس مسئلہ پر دسمبر کے پہلے ہفتہ میں احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

بہار کے انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے بعد کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے ابتدائی جائزے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پارٹی کی سینئر قیادت—راہل گاندھی اور ملییکارجن کھڑگے—نے لالُو پرساد یادو اور تیجسوی یادو سے فون پر بات چیت کی۔

بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی تاریخی اور شاندار کامیابی کے بعد مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے ریاست کی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست کے تحت دراندازوں کو بچانے والوں کو عوام نے کرارا جواب دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں اس کامیابی کو بہار کے باشعور ووٹروں کا فیصلہ اور ترقی و امن کی جیت قرار دیا۔