Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

امت شاہ نے وزیر اعظم مودی کی عوامی فلاحی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسان سمان ندھی یوجنا کے تحت اب تک 85 لاکھ کسانوں کو ہر سال چھ ہزار روپے بطور امداد دیے جا رہے ہیں۔ بہار میں اگلی این ڈی اے حکومت بننے پر کسانوں کو سالانہ نو ہزار روپے دیے جائیں گے۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ مہم پارٹی کا پروگرام نہیں بلکہ عوامی تحریک ہے۔ یہ ہر شہری کی آواز ہے جو شفاف اور منصفانہ انتخابات چاہتا ہے۔ راہل گاندھی اور کانگریس قیادت کا کہنا ہے کہ جب عوام کی آواز متحد ہو کر گونجے گی، تو جمہوریت کی جڑیں اور مضبوط ہوں گی۔

راہل گاندھی نے ایک بار پھر ووٹ چوری کے مسئلے کو اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ بہار میں لاکھوں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں، اور جن کے ووٹ کاٹے گئے وہ زیادہ تر مہاگٹھ بندھن کے حامی تھے۔ اسی طرح ووٹر لسٹ میں غلط نام جوڑے گئے ہیں۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے ہریانہ انتخابات سے متعلق بیان کے بعد برازیلی ماڈل لارِسا نے وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ میں پہلے ماڈل تھی، اب ڈیجیٹل اِنفلوئنسر ہوں، اور میرا بھارت کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

راہل گاندھی نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ کانگریس کی جیت کو بی جے پی کی جیت میں بدلنے کا منصوبہ بنایا گیا اور الیکشن کمیشن تب بھی لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے۔ راہل گاندھی نے ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہریانہ میں ووٹ چوری کرکے بی جے پی کی حکومت بنوائی گئی۔ ہریانہ میں ووٹ چوری پکڑی گئی ہے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے راہل گاندھی پر الزام لگایا کہ وہ مسلح افواج میں ریزرویشن کا مطالبہ کرکے ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

راہل گاندھی نے ہریانہ انتخابات کی ووٹر فہرست میں دھاندلی کا الزام لگایا، الیکشن کمیشن نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے  راہل کے الزامات کا جواب دیا ہے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ہریانہ میں ووٹ چوری کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہریانہ میں کانگریس کی زبردست جیت کو ہار میں بدلا گیا۔ 25 لاکھ ووٹوں کی چوری کی گئی۔

وزیراعظم نریندر مودی، وزیرداخلہ امت شاہ، وزیراعلیٰ نیتیش کمار، تیجسوی یادو، اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور پرشانت کشور نے مختلف انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ پہلے مرحلے میں 6 نومبر کو 18 اضلاع کی 121 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بہار میں مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت ہر طبقے، ہر ذات اور ہر مذہب کی ہوگی۔ اس میں خواتین، کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں سمیت پورے بہار کی آواز شامل ہوگی۔