Bharat Express DD Free Dish

Politics

راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام لگایا تھا کہ وہ ملک کے اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس آئین اور ملک کی بنیادی روح کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا کہ رِنیکی بھویان کے پاس متعدد غیر ملکی پاسپورٹ ہیں اور بیرون ملک غیر ظاہر شدہ اثاثے موجود ہیں۔ ان بیانات کے بعد ان کے خلاف ہتک عزت، جعلسازی اور مجرمانہ سازش کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

کس طرح اروند کیجریوال کے خلاف الزامات عائد کیے گئے اور انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ آتشی نے دعویٰ کیا کہ اب بی جے پی تحقیقاتی ایجنسیوں جیسے سی بی آئی اور ای ڈی کا غلط استعمال کر رہی ہے تاکہ سیاسی مخالفین پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیے گئے ویڈیو میں وزیر اعظم  مودی کو نوجوانوں سے دوستانہ انداز میں بات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ “کیا آپ لوگ مجھے فٹبال کھیلنا سکھائیں گے یا کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ مجھے ہرا دیں؟

ریلوے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے وارانسی جنکشن سے پنڈت دین دیال اپادھیائے  جنکشن  تک تیسری اور چوتھی ریلوے لائن کے منصوبے کی بنیاد رکھی جائے گی، جس میں  گنگا ندی  پر ریل-روڈ پل کی تعمیر بھی شامل ہے۔

یہ بل دراصل ملک کی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے مقصد سے پیش کیا گیا تھا۔ اس کے تحت نشستوں کی تعداد 543 سے بڑھا کر 816 کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیر اعظم مودی اکثر اپنے خطابات میں مضبوط ارادے اور مستقل مزاجی پر زور دیتے رہے ہیں۔ اس موقع پر بھی انہوں نے واضح کیا کہ قوم کی ترقی کا آغاز فرد کی ذاتی بہتری سے ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنے کام میں مہارت پیدا کرے اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرے تو نہ صرف اس کی اپنی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

ادت راج نے اس رویے کو جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی رہنما خود ہی الزام عائد کرے اور خود ہی فیصلہ سنانے لگے تو پھر عدالتی عمل کی اہمیت کیا رہ جائے گی۔

باراسات کی ریلی میں موجود ہجوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو لوگ اسے ممتا بنرجی کا مضبوط گڑھ کہتے ہیں، وہ آج کی عوامی شرکت دیکھ لیں، جواب خود مل جائے گا۔

راگھو چڈھا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارٹی سے پہلے بھی کئی تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد وابستہ رہے، مگر بعد میں انہوں نے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ سب لوگ بھی غلط ہو سکتے ہیں؟