Bharat Express DD Free Dish

Politics

وجے کا وزیر اعلیٰ بننا تمل ناڈو کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی مانا جا رہا ہے۔ تقریباً چھ دہائیوں سے ریاست میں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے درمیان اقتدار کی جو روایت چلی آ رہی تھی، اس کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

امت شاہ اس دوران مرکزی ایجنسیوں کی تیاریوں، ریسکیو سسٹم اور ایمرجنسی رسپانس میکانزم کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ابتدائی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنانے، وسائل کی فوری فراہمی اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنے پر بھی غور کیا جائے گا،

تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ٹی وی کے نے پہلی ہی بار شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 234 میں سے 108 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں مختلف جماعتوں کی حمایت کے بعد وجے کو 121 ارکان کی تائید حاصل ہوئی،

یدی یورپا نے ہمیشہ ذاتی مفادات سے زیادہ کرناٹک اور عوامی خدمت کو ترجیح دی۔ امت شاہ کے مطابق یدی یورپا نہ صرف کرناٹک بلکہ پورے جنوبی ہندوستان میں بی جے پی کی بنیاد مضبوط کرنے والےلیڈر ہیں۔

یہ ان گنت عظیم شخصیات کو یاد کرنے کا وقت ہے جو ظلم کے سامنے ڈٹے رہے۔ لکولیشا اور سوما سرمن تھے، جنہوں نے پربھاس کو فلسفے کے ایک عظیم مرکز میں تبدیل کیا۔ ولبھی کے چکرورتی مہاراجہ دھراسینا چہارم نے صدیوں پہلے وہاں دوسرا مندر تعمیر کیا تھا۔

اب تمل ناڈو میں وجے کے معاملے کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں یدیورپا کو پہلے حلف اور بعد میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا گیا تھا، وہیں وجے سے پہلے ہی مکمل اکثریت کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کا ممکنہ دورہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ان کے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی کے درمیان اعلیٰ سطحی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تہران موجودہ علاقائی بحران کے دوران برکس کو سفارتی مذاکرات اور عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھ رہا ہے

تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے بھارتی ریزرو بینک اور اسٹیٹ بینک آف ویتنام کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگی کے معاہدے کا خیر مقدم کیا گیا۔ دونوں ممالک نے کیو آر کوڈ پر مبنی ادائیگی پلیٹ فارمز کو آپس میں مربوط کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے جب بی جے پی نے ہندوستان کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاستوں میں شامل مغربی بنگال میں کامیابی حاصل کی ہے، جہاں دس کروڑ سے زیادہ لوگ آباد ہیں۔ ان کے مطابق یہ نتیجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی عوام نے وزیر اعظم مودی کی قیادت پر ایک بار پھر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

اپنے آس پاس موجود باصلاحیت بچوں کی صلاحیتوں کو سامنے لائیں تاکہ انہیں قومی سطح پر پہچان مل سکے۔ یہ ایوارڈ نہ صرف بچوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ انہیں مستقبل میں مزید بہتر کام کرنے کے لیے بھی تحریک دیتا ہے۔