Bharat Express DD Free Dish

Tamil Nadu Political Crisis: بغیر اکثریت یدیورپا کو حکومت بنانے کی ملی دعوت ، پھر وجے کو کیوں روکا گیا؟ گورنر کے کردار پر اٹھے سوال

اب تمل ناڈو میں وجے کے معاملے کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں یدیورپا کو پہلے حلف اور بعد میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا گیا تھا، وہیں وجے سے پہلے ہی مکمل اکثریت کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔

نئی دہلی : تمل ناڈو کی سیاست میں فلمی دنیا سے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے والے تملگا ویٹری کڑگم (ٹی وی کے) کے سربراہ وجے کے وزیر اعلیٰ بننے کی راہ میں راج بھون ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا ہے۔ کانگریس کی حمایت کے ساتھ حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرنے جب وجے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر سے ملاقات کے لیے راج بھون پہنچے تو انہیں فوری طور پر حلف دلانے سے انکار کر دیا گیا۔ گورنر کی جانب سے واضح شرط رکھی گئی کہ پہلے 118 ارکان اسمبلی کی حمایت والا خط پیش کیا جائے، اس کے بعد ہی حکومت سازی کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔اس فیصلے کے بعد ایک بار پھر ملک میں گورنروں کے کردار اور ان کے مبینہ دوہرے معیار پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں سوال اٹھا رہی ہیں کہ کیا مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے الگ الگ اصول اپنائے جا رہے ہیں؟ اس بحث کو سمجھنے کے لیے 2018 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات کی مثال دی جا رہی ہے، جہاں صورتحال اس کے بالکل برعکس تھی۔

جب یدیورپا کو بغیر اکثریت حکومت بنانے کی ملی دعوت

سال 2018 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ 224 رکنی اسمبلی میں بی جے پی 104 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، لیکن اکثریت کے لیے درکار تعداد سے دور تھی۔ دوسری جانب کانگریس اور جے ڈی ایس نے فوری طور پر اتحاد بنا لیا تھا، جس کے پاس واضح اکثریت موجود تھی۔اس کے باوجود اُس وقت کے گورنر وجو بھائی والا نے اکثریتی اتحاد کے بجائے سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر بی ایس یدیورپا کو حکومت بنانے کی دعوت دے دی۔ یدیورپا نے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف بھی اٹھا لیا اور انہیں ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے وقت دیا گیا۔ حالانکہ ان سے پہلے 112 ارکان کی فہرست طلب نہیں کی گئی تھی۔بعد میں سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد جب فلور ٹیسٹ ہوا تو اکثریت نہ ہونے کے سبب یدیورپا کو صرف تین دن میں استعفیٰ دینا پڑا اور کانگریس۔جے ڈی ایس اتحاد نے حکومت بنا لی۔

وجے کے معاملے میں الگ رویہ؟

اب تمل ناڈو میں وجے کے معاملے کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں یدیورپا کو پہلے حلف اور بعد میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا گیا تھا، وہیں وجے سے پہلے ہی مکمل اکثریت کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔وجے کی پارٹی ٹی وی کے نے 2026 اسمبلی انتخابات میں 108 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ کانگریس کے پانچ ارکان کی حمایت کے بعد بھی ان کے پاس تقریباً 112 یا 113 ارکان کی حمایت ہے، جبکہ اکثریت کے لیے 118 نشستیں درکار ہیں۔

سپریم کورٹ کے اصول کا حوالہ

سیاسی حلقے سپریم کورٹ کے تاریخی ایس آر بومئی بنام یونین آف انڈیا فیصلے کا بھی حوالہ دے رہے ہیں، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ اکثریت کا فیصلہ راج بھون میں نہیں بلکہ اسمبلی کے فلور پر ہونا چاہیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وجے کے معاملے میں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے گورنر فلور ٹیسٹ سے پہلے ہی “راج بھون ٹیسٹ” لینا چاہتے ہیں۔

سیاسی اور آئینی بحث تیز

کانگریس نے گورنر کے رویے کو عوامی مینڈیٹ کی توہین قرار دیا ہے، جبکہ بی جے پی اس مؤقف پر قائم ہے کہ حکومت سازی کے لیے مکمل اکثریت کا ثبوت ضروری ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق آرٹیکل 164 کے تحت وزیر اعلیٰ کی تقرری گورنر کے اختیار میں ہوتی ہے، لیکن یہی صوابدیدی اختیار اکثر تنازعات کو جنم دیتا ہے۔اب نظریں اس بات پر ٹکی ہیں کہ آیا وجے مطلوبہ 118 ارکان کی حمایت حاصل کر پاتے ہیں یا یہ معاملہ ایک طویل آئینی اور قانونی جنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read