Bharat Express DD Free Dish

Vijay Thalapathy

کپل سبل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی جماعت کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے، اس لیے آئینی روایت اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کے مطابق سب سے بڑی پارٹی کو پہلے حکومت بنانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق گورنر کو ٹی وی کے کے سربراہ وجے کو مدعو کر کے حلف دلانا چاہیے اور پھر اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے۔

اب تمل ناڈو میں وجے کے معاملے کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں یدیورپا کو پہلے حلف اور بعد میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا گیا تھا، وہیں وجے سے پہلے ہی مکمل اکثریت کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔

تمل ناڈو اسمبلی الیکشن میں اس بار تھلاپتی وجے کی پارٹی کی موجودگی نے سبھی سیاسی حالات کو بدل کررکھ دیا ہے۔ پہلے ہی الیکشن میں ان کی پارٹی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

20 جنوری کو وجے تھلاپتی کی فلم ’جن نائیکن‘ کی سماعت کرتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ نے فیصلے کو محفوظ رکھ لیا ہے۔ حالانکہ فلم کی آئندہ سماعت 21 جنوری کو کی جائے گی۔ وجے تھلاپتی اپنی فلم کو ریلیز کرانے کے لئے کافی قانونی جدوجہد کررہے ہیں۔ آپ کو بتا دیں کہ فلم ’جن نائیکن‘ 9 جنوری کو ریلیز ہونے والی تھی۔

پوچھ گچھ کے دوران سی بی آئی حکام نے مبینہ طور پر کئی اہم سوالات اٹھائے، جن میں یہ شامل تھا کہ کرور پروگرام کا اہتمام کس نے کیا، کیا وجے کو پہلے سے انتظامات کی مکمل جانکاری تھی، ریلی کے جگہ پر تاخیر سے پہنچنے کی وجہ کیا تھی، اور بڑھتی ہوئی بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے تھے یا نہیں۔

جانچ کے سلسلے میں 4 دسمبر کو کرور ضلع کے کلکٹر تھنگاویلم کو بھی طلب کیا گیا، جہاں ان سے انتظامی منظوری، مختلف محکموں کے درمیان تال میل اور ریلی کے دن نافذ کیے گئے رسپانس میکانزم کے بارے میں دو گھنٹے سے زائد وقت تک پوچھ گچھ کی گئی۔

وجے نے کہا کہ ٹی وی کے کو ان میٹنگز سے باہر رکھنا ایک بڑے ووٹر طبقے کو شفاف نگرانی کے حق سے محروم کر رہا ہے، جس سے انتخابی غیرجانبداری پر عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ خط چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمشنرز، تمل ناڈو اسٹیٹ الیکشن کمشنر اور چیف الیکٹورل آفیسر کو بھی بھیجا گیا ہے۔

حادثے کی تفصیلی تحقیقات کے لیے وزیراعلیٰ نے ایک عدالتی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس کمیشن کی سربراہی ہائی کورٹ کی ریٹائرڈ جج جسٹس ارونا جگدیشان کریں گی۔ کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے رپورٹ حکومت کو پیش کرے۔

وجے جب جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے تبھی بھیڑ مسلسل بڑھتی گئی۔ گرمی اور دھکم پیل کے درمیان کئی کارکن اور بچے بے ہوش ہوگئے۔ صورتحال دیکھ کر وجے نے فوراً تقریر روک دی اور انتخابی بس سے پانی کی بوتلیں پھینک کر لوگوں کو راحت دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایمبولینس کے لیے راستہ بنانے کی بھی اپیل کی۔

وجئے کی قیادت والی تملگا ویتری کژگم نے وقف بل کی مخالفت کرتے ہوئے جمعہ کو مرکزی حکومت سے گزارش کی کہ وہ اسے واپس لے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے حقوق چھین لے گا۔