Bharat Express DD Free Dish

Politics

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سی جے آئی نے رجسٹرار (جوڈیشل) کو ہدایت دی کہ ایک “فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی” تشکیل دی جائے، جو اس بات کی مکمل تحقیقات کرے کہ مارچ 2026 کے حکم پر عمل کیوں نہیں کیا گیا اور اس میں کس سطح پر کوتاہی برتی گئی

انتخابات میں اسٹالن کو ذاتی طور پر بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ وہ اپنی روایتی کولاتھور نشست سے شکست کھا گئے، جہاں انہیں وی ایس بابو نے ہرایا۔ یہ نتیجہ ریاستی سیاست میں بڑی تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق کسی موجودہ وزیر اعلیٰ کی اپنی نشست سے شکست ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

سوشل میڈیا پر امت شاہ کے اس پیغام کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے بھی منوہر لال کھٹر کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔ یوزر نے ان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہریانہ کی سیاست میں ایک نئی سمت دی

ششی تھرور نے کہا کہ یہ نتائج کانگریس کے لیے ایک اہم سبق ہیں اور پارٹی کو چاہیے کہ وہ ان سے سیکھ کر اپنی آئندہ حکمت عملی تیار کرے۔ تھرور کے مطابق صرف تنقید کرنے کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے خاص طور پر جنوبی کوریا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ بھی اس مشن میں شامل ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “ایران نے جنوبی کوریائی جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے، شاید اب جنوبی کوریا کو اس آپریشن میں حصہ لینا چاہیے۔”

ریاست کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ان اموات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں ریاستی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مہلوکین کے لواحقین کو چار چار لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔

بی جے پی لیڈر منوج تیواری نے خاص طور پر بنگال کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بنگالی زبان میں بھی اظہارِ تشکر کیا، جس سے ان کی گفتگو میں مقامی جذبات کی جھلک نظر آئی۔ منوج تیواری نے کہا کہ وہ خود بھی ریاست کے لوگوں کے تعاون اور محبت کے لیے شکر گزار ہیں۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ابتدائی رجحانات اکثر حتمی نتائج کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، اسی لیے مختلف سیاسی جماعتیں صبر اور احتیاط کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پون کھیڑا کا بیان بھی اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں وہ اپنے کارکنان اور حامیوں کا حوصلہ بلند رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آچاریہ پرمود کرشنم کے اس بیان نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ کانگریس کی جانب سے اس پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم پارٹی کے اندرونی ذرائع اسے ذاتی رائے قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایسے بیانات آنے والے انتخابات سے قبل اپوزیشن اتحاد میں اختلافات کو نمایاں کر سکتے ہیں

نریندر مودی نے 1990 کی دہائی کے آخر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت گجرات سیاسی عدم استحکام اور سماجی تناؤ کا شکار تھا اور بہت سے لوگوں کو خدشہ تھا کہ ریاست دوبارہ سنبھل نہیں پائے گی۔