Bharat Express DD Free Dish

Politics

بی جے پی لیڈر منوج تیواری نے خاص طور پر بنگال کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بنگالی زبان میں بھی اظہارِ تشکر کیا، جس سے ان کی گفتگو میں مقامی جذبات کی جھلک نظر آئی۔ منوج تیواری نے کہا کہ وہ خود بھی ریاست کے لوگوں کے تعاون اور محبت کے لیے شکر گزار ہیں۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ابتدائی رجحانات اکثر حتمی نتائج کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، اسی لیے مختلف سیاسی جماعتیں صبر اور احتیاط کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پون کھیڑا کا بیان بھی اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں وہ اپنے کارکنان اور حامیوں کا حوصلہ بلند رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آچاریہ پرمود کرشنم کے اس بیان نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ کانگریس کی جانب سے اس پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم پارٹی کے اندرونی ذرائع اسے ذاتی رائے قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایسے بیانات آنے والے انتخابات سے قبل اپوزیشن اتحاد میں اختلافات کو نمایاں کر سکتے ہیں

نریندر مودی نے 1990 کی دہائی کے آخر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت گجرات سیاسی عدم استحکام اور سماجی تناؤ کا شکار تھا اور بہت سے لوگوں کو خدشہ تھا کہ ریاست دوبارہ سنبھل نہیں پائے گی۔

راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام لگایا تھا کہ وہ ملک کے اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس آئین اور ملک کی بنیادی روح کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا کہ رِنیکی بھویان کے پاس متعدد غیر ملکی پاسپورٹ ہیں اور بیرون ملک غیر ظاہر شدہ اثاثے موجود ہیں۔ ان بیانات کے بعد ان کے خلاف ہتک عزت، جعلسازی اور مجرمانہ سازش کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

کس طرح اروند کیجریوال کے خلاف الزامات عائد کیے گئے اور انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ آتشی نے دعویٰ کیا کہ اب بی جے پی تحقیقاتی ایجنسیوں جیسے سی بی آئی اور ای ڈی کا غلط استعمال کر رہی ہے تاکہ سیاسی مخالفین پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیے گئے ویڈیو میں وزیر اعظم  مودی کو نوجوانوں سے دوستانہ انداز میں بات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ “کیا آپ لوگ مجھے فٹبال کھیلنا سکھائیں گے یا کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ مجھے ہرا دیں؟

ریلوے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے وارانسی جنکشن سے پنڈت دین دیال اپادھیائے  جنکشن  تک تیسری اور چوتھی ریلوے لائن کے منصوبے کی بنیاد رکھی جائے گی، جس میں  گنگا ندی  پر ریل-روڈ پل کی تعمیر بھی شامل ہے۔

یہ بل دراصل ملک کی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے مقصد سے پیش کیا گیا تھا۔ اس کے تحت نشستوں کی تعداد 543 سے بڑھا کر 816 کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔