Bharat Express DD Free Dish

Politics

یورپی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ اتحاد مزید مضبوط ہو سکے۔حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں امریکہ کی حمایت کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اس موقع پر پون کلیان نے وزیر اعظم مودی کے اس ذاتی فون کال پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم  مودی کی جانب سے صحت کے بارے میں تشویش اور نیک تمنائیں ان کے لیے حوصلہ افزا ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ بھگوان پرشورام کے جنم اُتسو کے موقع پر وہ ملک کے تمام باشندوں کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کی پرارتھنا کرتے ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہوں نے خود تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔ ان کے مطابق انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر کوئی جماعت اس کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے تو وہ لے سکتی ہے،

دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے احتجاج کے دوران کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے ملک کی نصف آبادی کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق سے متعلق بل بار بار پیش ہوتا ہے، لیکن کبھی اسے پھاڑ دیا جاتا ہے،

ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کی بنیاد 1980 میں رکھی گئی اور تقریباً 50 سال میں 15 مرتبہ پارٹی صدر منتخب ہوئے، لیکن ان میں سے ایک بھی خاتون نہیں تھی۔ ان کے مطابق کئی مرد لیڈروں کو بار بار موقع دیا گیا، مگر خواتین کو قیادت میں جگہ نہیں ملی

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت نہ کرنا اپوزیشن کی بڑی سیاسی غلطی ہے اور یہ رویہ خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے سیاسی نتائج اپوزیشن کو بھگتنے پڑیں گے۔

امت شاہ نے کہا کہ اس وقت لوک سبھا میں 543 ارکان ہیں، لیکن کئی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد میں بہت بڑا فرق ہے۔ کہیں 60 ہزار ووٹر ہیں تو کہیں 49 لاکھ تک ووٹر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد والے حلقوں میں رکن پارلیمنٹ کے لیے تمام ووٹروں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن بظاہر بل کی حمایت کی بات کر رہی ہے، لیکن "اگر مگر" اور "لیکن" جیسے الفاظ کے ذریعے دراصل اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف عمل درآمد کا نہیں بلکہ پورے بل کا مسئلہ ہے۔

رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت تمام پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس جے شنکر نے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک نے دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے باہمی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔