Bharat Express DD Free Dish

Politics

وزیراعظم  مودی نے گزشتہ 25 سے 30 برسوں میں پنچایت سطح پر ابھرنے والی خواتین قیادت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں خواتین اب صرف نمائندہ نہیں بلکہ بااثر لیڈر بن چکی ہیں۔ پہلے خواتین سمجھتی تھیں مگر بولتی نہیں تھیں،

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کی پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں یہ بھی ویسا ہی اہم لمحہ ہے۔ اگر 25 سے 30 سال پہلے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے خواتین ریزرویشن نافذ کر دیا جاتا، تو آج تک اس میں بہتری اور پختگی آ چکی ہوتی۔

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے، جدت اور پائیداری کے شعبوں میں بھارت اور آسٹریا قابل اعتماد شراکت دار رہے ہیں۔ دہلی میٹرو ہو یا اٹل ٹنل، آسٹریا کی سرنگ سازی کی مہارت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس موقع پر پارٹی لیڈروں نے عہد کیا کہ وہ ڈاکٹر امبیڈکر کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کام جاری رکھیں گے اور سماج کے پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کوششیں تیز کریں گے۔ تقریب میں شریک کارکنان نے بھی ڈاکٹر امبیڈکر کے نظریات کو عام کرنے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا عزم دہرایا۔

ملاقات کے دوران دونوں لیڈروں نے  پرارتھنا کی اور وہاں رکھی مذہبی فن پاروں کا مشاہدہ کیا۔ روایتی سجاوٹ والے منڈپ میں ایک ساتھ کھڑے ہو کر دونوں رہنماؤں نے قومی یکجہتی کا خوبصورت پیغام دیا۔

وزیراعظم مودی نے لکھا کہ 2047 تک "وکست بھارت" کا ہدف اسی وقت حاصل ہوگا، جب ملک کی نصف آبادی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں فعال کردار ادا کرے گی۔

وزیراعظم مودی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اڑیا اور انگریزی دونوں زبانوں میں مبارکبادی کارڈ شیئر کیے۔انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ " مہابشوباپانا ی سنکرانتی کی دل سے مبارکباد!"

وزیراعلیٰ تمانگ نے ان اہم منصوبوں کا بھی جائزہ لیا ، جن کا افتتاح یا سنگ بنیاد وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران رکھ سکتے ہیں۔ متعلقہ محکموں نے اپنی پیش رفت رپورٹ پیش کی،

وزیراعظم مودی نے مزید کہا کہ یکساں سول کوڈ آئین کی توقع ہے اور اتراکھنڈ نے اس سمت میں قدم بڑھا کر ملک کو راستہ دکھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہلی–دہرادون ایکسپریس وے کے افتتاح کے ساتھ ترقی کی ایک نئی منزل حاصل ہوئی ہے۔

ریکھا گپتا نے مزید کہا کہ میں آج دہلی کی عوام سے کہنا چاہتی ہوں کہ وہ شخص جس نے ہمیشہ جمہوریت کی بے حرمتی کی، سرکاری ایجنسیوں پر انگلی اٹھائی اور جو بھی ان کے خلاف دو لفظ بولتا تھا، اسے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔