نئی دہلی :نریندر مودی نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “وکست بھارت” کا مطلب صرف اقتصادی ترقی یا بہتر انفراسٹرکچر نہیں بلکہ پالیسی سازی کے عمل میں تمام طبقات، خصوصاً خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ “وکست بھارت” کا تصور صرف اچھی ریل، سڑکوں یا اقتصادی اعداد و شمار تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کا اصول پالیسی سازی میں بھی نظر آنا چاہیے اور ملک کی 50 فیصد آبادی یعنی خواتین کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں پہلے ہی کافی تاخیر ہو چکی ہے اور اب مزید تاخیر مناسب نہیں ہوگی۔وزیراعظم مودی نے خواتین ریزرویشن کے معاملے پر کہا کہ جن سیاسی جماعتوں یا رہنماؤں نے ماضی میں اس کی مخالفت کی، خواتین نے انہیں کبھی معاف نہیں کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہر انتخاب میں خواتین نے اپنے حقوق کی مخالفت کرنے والوں کو جواب دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2024 میں یہ مسئلہ اس لیے بڑا موضوع نہیں بنا کیونکہ اسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔
مودی نے واضح کیا کہ خواتین کی شمولیت کو سیاسی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اگر تمام جماعتیں مل کر آگے بڑھتی ہیں تو اس کا فائدہ کسی ایک پارٹی کو نہیں بلکہ ملک کی جمہوریت کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا کریڈٹ نہ حکومت کو ملے گا نہ انہیں، بلکہ یہ پورے ملک کا ہوگا۔
وزیراعظم مودی نے گزشتہ 25 سے 30 برسوں میں پنچایت سطح پر ابھرنے والی خواتین قیادت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں خواتین اب صرف نمائندہ نہیں بلکہ بااثر لیڈر بن چکی ہیں۔ پہلے خواتین سمجھتی تھیں مگر بولتی نہیں تھیں، لیکن آج وہ بااعتماد انداز میں اپنی بات رکھ رہی ہیں اور فیصلوں کو متاثر کر رہی ہیں۔وزیراعظم مودی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آج بھی خواتین کی شمولیت کی مخالفت کر رہے ہیں، انہیں طویل مدت تک سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مخالفت اب صرف سیاسی سطح تک محدود نہیں رہی بلکہ زمینی سطح پر خواتین میں بیداری اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔
وزیراعظم مودی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ اس معاملے کو سیاست کے ترازو پر نہ تولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور دنیا کی خواتین نہ صرف فیصلوں کو دیکھیں گی بلکہ نیت کو بھی پرکھیں گی، اور اگر نیت میں کھوٹ ہوئی تو خواتین معاف نہیں کریں گی۔انہوں نے 2023 میں پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور ہونے والے ناری شکتی وندن ایکٹ کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں مثبت ماحول تھا اور اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اب اس فیصلے کو نافذ کرنے میں مزید کتنا وقت لگے گا اور کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ اب مزید تاخیر نہ کی جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



