Bharat Express DD Free Dish

Women’s Reservation Bill: خواتین ریزرویشن کی مخالفت کرنے والوں کو خواتین نے سبق سکھایا: وزیراعظم نریندر مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کی پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں یہ بھی ویسا ہی اہم لمحہ ہے۔ اگر 25 سے 30 سال پہلے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے خواتین ریزرویشن نافذ کر دیا جاتا، تو آج تک اس میں بہتری اور پختگی آ چکی ہوتی۔

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے خواتین ریزرویشن بل پر لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خواتین ریزرویشن کی مخالفت کرتے رہے ہیں، ملک کی خواتین نے انہیں کبھی معاف نہیں کیا اور ہر انتخاب میں ان کا برا حال کیا۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ آج صبح سے اس اہم بل پر بحث جاری ہے اور زندگی میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر سماج کی ذہنی کیفیت اور قیادت کی صلاحیت اس لمحے کو قوم کی امانت بنا دیتی ہے اور ایک مضبوط ورثہ تیار ہوتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کی پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں یہ بھی ویسا ہی اہم لمحہ ہے۔ اگر 25 سے 30 سال پہلے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے خواتین ریزرویشن نافذ کر دیا جاتا، تو آج تک اس میں بہتری اور پختگی آ چکی ہوتی۔نریندر مودی نے کہا کہ جمہوریت کی یہی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وقت کے مطابق اصلاحات کی جائیں۔وزیراعظم  نریندر مودی نے کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ملک کی آدھی آبادی کو پالیسی سازی کے عمل میں شامل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ نریندر مودی نے تمام اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ اس تاریخی موقع کو ضائع نہ ہونے دیں اور مل کر ملک کو نئی سمت دینے میں کردار ادا کریں۔

نریندر مودی نے کہا کہ 21ویں صدی میں بھارت نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور دنیا میں بھارت کی قبولیت بڑھ رہی ہے۔نریندر مودی نے کہا کہ “ترقی یافتہ بھارت” کا تصور صرف بنیادی ڈھانچے یا اقتصادی ترقی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں “سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کے اصول کے تحت ملک کی 50 فیصد آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ضروری ہے۔وزیراعظم  نریندر مودی نے مزید کہا کہ جب سے خواتین ریزرویشن کا مسئلہ زیر بحث آیا ہے، ہر انتخاب میں اس کی مخالفت کرنے والوں کو خواتین ووٹروں نے سخت جواب دیا ہے اور انہیں سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read