Bharat Express DD Free Dish

Women’s reservation bill

کانگریس کے موقف کو دہراتے ہوئے پی چدمبرم نے خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی کو جوڑنے پر بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت پر ’’پوشیدہ ایجنڈے‘‘ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’مسٹر کرن رجیجو غلط ہیں۔ لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن کی گنجائش آئین کے 106ویں ترمیمی قانون، 2023 کے تحت پہلے ہی موجود ہے، جیسا کہ مسٹر راہل گاندھی نے نشاندہی کی ہے۔ بی جے پی حکومت نے اسے غیر ضروری اور بدنیتی کے ساتھ مردم شماری اور حلقہ بندی سے جوڑ دیا۔‘‘

ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ ترنمول کانگریس دہائیوں سے خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی، لیکن وہ ایسے معاملات پر کسی سے لیکچر سننے کو تیار نہیں جنہیں حکمراں جماعت نہ سمجھتی ہے اور نہ ہی ان کا احترام کرتی ہے۔

حکومت نے اپوزیشن کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے جنوبی ریاستوں یا چھوٹی ریاستوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ حکومت کے مطابق جنوبی ریاستوں کی نمائندگی موجودہ 23.76 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 23.87 فیصد ہو جاتی۔

وزیر اعظم مودی نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہوں نے خود تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔ ان کے مطابق انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر کوئی جماعت اس کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے تو وہ لے سکتی ہے،

امت شاہ نے کہا کہ اس وقت لوک سبھا میں 543 ارکان ہیں، لیکن کئی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد میں بہت بڑا فرق ہے۔ کہیں 60 ہزار ووٹر ہیں تو کہیں 49 لاکھ تک ووٹر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد والے حلقوں میں رکن پارلیمنٹ کے لیے تمام ووٹروں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن بظاہر بل کی حمایت کی بات کر رہی ہے، لیکن "اگر مگر" اور "لیکن" جیسے الفاظ کے ذریعے دراصل اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف عمل درآمد کا نہیں بلکہ پورے بل کا مسئلہ ہے۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے جو خدشات ظاہر کیے ہیں، انہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنوبی بھارت کے لوگوں کو یہ احساس ہو گیا کہ شمالی ریاستیں ان پر اپنی مرضی مسلط کر رہی ہیں تو صورتحال بگڑ سکتی ہے۔

وزیراعظم  مودی نے ملک کی "ناری شکتی" کو پرنام کرتے ہوئے کہا کہ خواتین نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے اور اب انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس بل کی مخالفت کریں گے انہیں اس کے سیاسی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں،

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کی پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں یہ بھی ویسا ہی اہم لمحہ ہے۔ اگر 25 سے 30 سال پہلے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے خواتین ریزرویشن نافذ کر دیا جاتا، تو آج تک اس میں بہتری اور پختگی آ چکی ہوتی۔

نئی  دہلی :وزیر اعظم نریندر مودی نے خواتین کے کوٹہ بل پر ایک مضمون میں اس کی ضرورت اور اہمیت واضح کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن وقت کی ضرورت ہے اور اس سے جمہوری ادارے زیادہ متحرک، شراکتی اور نمائندگی دینے والے بنیں گے۔ مودی نے واضح کیا …