Bharat Express DD Free Dish

Politics

وزیر اعظم مودی نے اس سے قبل 14 مارچ کو مغربی بنگال کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے کولکاتا کے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کیا تھا۔ یہ ریلی بی جے پی کی 'پریورتن یاترا' مہم کا اختتام تھی۔اس دورے کے دوران وزیر اعظم  مودی نے تقریباً 18,680 کروڑ روپے کے بنیادی ڈھانچے اور کنیکٹیویٹی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا،

امت شاہ نے نوجوانوں کے روزگار کے مسئلے کو خاص طور پر اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ کے نوجوان تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ہیں، لیکن انہیں مقامی سطح پر روزگار نہیں مل رہا، جس کی وجہ سے انہیں بیرون ملک جانا پڑ رہا ہے۔

وزیراعظم مودی نے ایسٹر کے موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ "ایسٹر کی نیک تمنائیں۔ یہ مقدس دن امید اور نئی شروعات کا جشن ہے۔ یہ سب کی زندگی میں امن، خوشی اور روشنی لے کر آئے۔ حضرت عیسیٰ مسیح کی تعلیمات ہمیں مہربان بننے اور معاشرے میں اتحاد کو مضبوط کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔"

صدر مرمو نے بھی ایستر کے موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن حضرت عیسیٰ مسیح کی دوبارہ زندگی پانے کی یاد دلاتا ہے اور یہ ہمیں سچائی، محبت، ہمدردی، قربانی اور معافی جیسے اصولوں کو اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔

سوربھ بھاردواج نے کہا کہ چاہے ٹوئٹر ہو، فیس بک ہو یا یوٹیوب، حکومت تنقیدی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ چھوٹی پارٹیوں کو پارلیمنٹ میں محدود وقت ملتا ہے، اس لیے نرم رویہ اپنانے کے بجائے بڑے قومی مسائل کو اٹھانا زیادہ ضروری ہے

نئے ڈپٹی لیڈر اشوک کمار مِتل نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں تبدیلی ایک مسلسل عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے این ڈی گپتا ڈپٹی لیڈر تھے، اس کے بعد راگھو چڈھا نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور اب انہیں یہ موقع دیا گیا ہے۔

آنند شرما نے کہا کہ دنیا شاید تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحرانوں میں سے ایک کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ وقت عالمی سفارتکاری کے امتحان کا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے خلیجی ممالک کے ساتھ طویل مدتی تعلقات ہیں،

سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بی جے پی عام طور پر اجتماعی قیادت کے ساتھ انتخابات لڑتی ہے، لیکن امت شاہ جیسے بڑے رہنما کا کسی ایک امیدوار کی نامزدگی میں ذاتی طور پر شرکت کرنا غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔

ادھر وزیر اعظم مودی عالمی حالات پر بھی مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سیکورٹی سے متعلق کابینہ کمیٹی(سی سی ایس)  کی ایک خصوصی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے بھارت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعظم  مودی کی سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے چنئی پولیس نے شہر بھر میں کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ تین ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ حساس مقامات پر سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے۔