نئی دہلی :کیرالہ کے ارناکولم میں اتوار کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 9 اپریل کو ہونے والا اسمبلی انتخاب محض اقتدار کی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ کیرالہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہے۔ انہوں نے عوام سے این ڈی اے کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔امت شاہ نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں کیرالہ کی عوام نے یو ڈی ایف اور ایل ڈی ایف کے درمیان اقتدار کی تبدیلی دیکھی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں حکومتوں نے بدعنوانی کی اور عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتریں۔
روزگار اور نوجوانوں کا مسئلہ
امت شاہ نے نوجوانوں کے روزگار کے مسئلے کو خاص طور پر اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ کے نوجوان تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ہیں، لیکن انہیں مقامی سطح پر روزگار نہیں مل رہا، جس کی وجہ سے انہیں بیرون ملک جانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ این ڈی اے کی حکومت بننے پر ریاست میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
نئی سیاسی تصویر اور این ڈی اے کی امید
امت شاہ نے کہا کہ دنیا بدل رہی ہے اور کمیونسٹ پارٹی اور کانگریس کا اثر کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اب کیرالہ میں بھی این ڈی اے کی حکومت بننا طے ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس بار این ڈی اے میں ٹوئنٹی-ٹوئنٹی پارٹی بھی شامل ہوئی ہے، جسے انہوں نے بدعنوانی کے خلاف اہم قدم قرار دیا۔
ترقیاتی منصوبوں کا ذکر
امت شاہ نے کوچی اسمارٹ سٹی، میٹرو اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے کیرالہ میں کئی بڑے پروجیکٹس کے لیے فنڈ فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے وقف ترمیمی بل کا ذکر کرتے ہوئے یو ڈی ایف اور ایل ڈی ایف پر دوہرے کردار کا الزام بھی لگایا۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اسٹارٹ اپس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن کیرالہ میں پنارائی وجین کی حکومت نے ترقی کے نام پر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا۔اپنی تقریر کے اختتام پر امت شاہ نے کہا، “یہ تبدیلی کا وقت ہے، اپنے بچوں کے مستقبل اور روزگار کے لیے فیصلہ لینے کا وقت ہے۔ آئیے کیرالہ کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھائیں۔”
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



