نئی دہلی :عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا کی جانب سے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کرنے کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ راگھو چڈھا کو راجیہ سبھا میں پارٹی کے نائب لیڈر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد انہوں نے جمعرات (2 اپریل) کو ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے بطور نائب لیڈر ایوان میں اٹھائے گئے مختلف مسائل کا ذکر کیا۔ اس ویڈیو پر عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما سوربھ بھاردواج نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ انہوں نے راگھو چڈھا کی ویڈیو دیکھی ہے اور یاد دلایا کہ عام آدمی پارٹی کے تمام کارکن اروند کیجریوال کے سپاہی ہیں، جنہوں نے یہی سیکھا ہے کہ “جو ڈر گیا، وہ مر گیا”۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا مقصد ہمیشہ عوامی مسائل کو بے خوفی کے ساتھ حکومت کے سامنے اٹھانا رہا ہے، مگر گزشتہ کچھ عرصے میں ایسا محسوس ہوا کہ جو بھی حکومت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، اسے سوشل میڈیا پر پابندیوں اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
Just saw ur video Raghav bhai.
I just want to say – “जो डर गया, समझो मर गया” pic.twitter.com/cgXN9cI4aG— Saurabh Bharadwaj (@Saurabh_MLAgk) April 3, 2026
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ چاہے ٹوئٹر ہو، فیس بک ہو یا یوٹیوب، حکومت تنقیدی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ چھوٹی پارٹیوں کو پارلیمنٹ میں محدود وقت ملتا ہے، اس لیے نرم رویہ اپنانے کے بجائے بڑے قومی مسائل کو اٹھانا زیادہ ضروری ہے۔سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ اگر ایوان میں کوئی معمولی باتوں پر توجہ دے رہا ہے تو اس کے بجائے ملک کے اہم مسائل پر بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کے مختلف ریاستوں میں انتخابات سے پہلے ووٹر لسٹوں میں گڑبڑی کی جا رہی ہے اور جعلی ووٹ بنا کر انتخابی نظام کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں بھی اسی طرح کے حالات ہیں اور اپوزیشن پارٹیاں الیکشن کمیشن کے خلاف کارروائی کی بات کر رہی تھیں، لیکن راگھو چڈھا نے اس پر دستخط کرنے سے مناکر دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راگھو چڈھا اپوزیشن کے واک آؤٹ میں بھی شامل نہیں ہوتے اور گزشتہ چند برسوں میں انہوں نے پارلیمنٹ میں وزیراعظم یا مرکزی حکومت سے کوئی سخت سوال نہیں کیا۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پنجاب جیسے اہم ریاست، جہاں سے راگھو چڈھا تعلق رکھتے ہیں، اس کے مسائل بھی ایوان میں مؤثر انداز میں نہیں اٹھائے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گجرات میں پارٹی کے تقریباً 160 کارکنوں کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات درج کیے گئے اور کئی افراد کو گرفتار کیا گیا، مگر اس معاملے پر بھی خاموشی اختیار کی گئی۔سوربھ بھاردواج نے راگھو چڈھا کو یاد دلایا کہ جب پارٹی کے کئی رہنما جیل میں تھے اور اروند کیجریوال کو وزیراعلیٰ رہتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا، اس وقت وہ ملک میں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل پر بے خوفی سے آواز اٹھانا ہی پارٹی کی اصل شناخت رہی ہے۔آخر میں سوربھ بھاردواج نے کہا کہ راگھو چڈھا کو سوچنا چاہیے کہ وہ کہاں سے چلے ھے اور اب کہاں آ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نرم رویہ اپنانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، بلکہ اس سے مخالفین کو فائدہ ملے گا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے مفاد میں ضروری ہے کہ حقیقی مسائل کو جرات کے ساتھ اٹھایا جائے اور حکومت سے سخت سوال کیے جائیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

