نئی دہلی: عام آدمی پارٹی نے راجیہ سبھا میں اپنے ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے راگھو چڈھا کو ہٹا کر اشو ک متل کو نئی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ پارٹی کے اس فیصلے پر سنجے سنگھ کا پہلا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ جو کچھ بتانا تھا، وہ راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کو مطلع کر دیا گیا ہے۔سنجے سنگھ نے کہا کہ پارٹی کا فیصلہ باضابطہ طور پر راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کو بھیج دیا گیا ہے اور اس حوالے سے مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق عام آدمی پارٹی نے راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کو لکھے گئے خط میں درخواست کی ہے کہ راگھو چڈھا کو پارلیمنٹ میں بولنے کے لیے وقت مختص نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی نے اشوک کمار مِتل کو راجیہ سبھا میں نائب قائد مقرر کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔
نئے ڈپٹی لیڈر اشوک کمار مِتل نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں تبدیلی ایک مسلسل عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے این ڈی گپتا ڈپٹی لیڈر تھے، اس کے بعد راگھو چڈھا نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور اب انہیں یہ موقع دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ کسی اور لیڈر کو بھی یہ ذمہ داری دی جا سکتی ہے ،کیونکہ پارٹی چاہتی ہے کہ ہر رکن مختلف ذمہ داریوں سے سیکھے اور تجربہ حاصل کرے۔واضح رہے کہ اس وقت راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے کل 10 ارکان ہیں، جن میں سے سات پنجاب اور تین دہلی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اشوک کمار مِتل اور راگھو چڈھا دونوں ہی پنجاب سے راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ پارٹی کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب راگھو چڈھا حالیہ دنوں میں پارٹی کے کئی معاملات پر خاموش نظر آ رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گزشتہ کچھ مہینوں میں پارٹی کے اندر حالات بدلتے ہوئے دکھائی دیے ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب راگھو چڈھا کو پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا، قابل ذکربات یہ ہےکہ حالیہ عرصے میں وہ پارٹی کے کئی اہم پروگراموں میں نظر نہیں آئے۔ اس تبدیلی کو عام آدمی پارٹی کی اندرونی حکمت عملی اور تنظیمی رد و بدل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


