Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

ریاستی حکومت کے مطابق یہ تقریب اڈیشہ میں گزشتہ دو برسوں کے دوران مختلف شعبوں میں ہونے والی ترقی، عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا اہم موقع ہوگی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مرکزی اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی ’’ڈبل انجن‘‘ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں اڈیشہ نے ترقی کے مختلف میدانوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

پارٹی کے مطابق یہ خصوصی مہم عالمی یومِ ماحولیات (5 جون) سے شروع ہو کر بین الاقوامی یوم یوگا (21 جون) تک جاری رہے گی۔ اس دوران بی جے پی لیڈرگاؤں گاؤں جا کر عوام سے ملاقات کریں گے اور مرکزی حکومت کی ترقیاتی اور عوامی فلاحی اسکیموں کی معلومات فراہم کریں گے۔

اس شلوک کا مفہوم بیان کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حقیقی دانشمند وہ شخص ہے، جو کسی کام کو اچھی طرح سوچ سمجھ کر مضبوط ارادے کے ساتھ شروع کرتا ہے، اسے درمیان میں ادھورا نہیں چھوڑتا، اپنے وقت کا بہترین استعمال کرتا ہے اور اپنی خواہشات و جذبات پر قابو رکھتا ہے۔

ان منصوبوں میں این ای سی کی مالی معاونت سے چلنے والی اسکیمیں، این ای ایس آئی ڈی ایس روڈ پروجیکٹس، این ای ایس آئی ڈی ایس او ٹی آر آئی اور پی ایم-ڈیون منصوبے شامل ہیں، جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

بھجن لال شرما کی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک بھر میں ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف سطحوں پر منصوبہ بندی اور ترقیاتی اقدامات کو تیز کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ راجستھان حکومت بھی اس قومی وژن کی تکمیل میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی اور ریاست کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کرے گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں تلنگانہ کے عوام کی صحت، خوشحالی اور کامیابی کے لیے بھی پرارتھنا کی اور کہا کہ ریاست آئندہ برسوں میں مزید ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گی۔

بات چیت کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت میانمار کا ایک قابل اعتماد ہمسایہ اور مشکل حالات میں مدد فراہم کرنے والا شراکت دار رہا ہے اور آئندہ بھی دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

ہریانہ کے کرنال شہر کے نیہرو پلیس مارکیٹ میں پیزا اسٹال چلانے والے مندیپ تنیجا اس اسکیم کے ایک نمایاں فائدہ اٹھانے والے ہیں، جنہوں نے اسے ’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اسکیم ان کی زندگی میں امید کی نئی کرن بن کر آئی اور ان کے بکھرتے ہوئے کاروبار کو دوبارہ سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

میانمار کے صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ایسے تمام گروہوں کے خلاف کارروائی کرے گی جو میانمار کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کے خلاف سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ سلامتی سے متعلق چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

آنگ سان سوچی کا معاملہ میانمار میں 2021 کے فوجی اقتدار سنبھالنے کے بعد عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا تھا۔ فوج نے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سوچی کے خلاف متعدد مقدمات قائم کیے تھے، جن میں بدعنوانی، کووڈ ضوابط کی خلاف ورزی اور فوج کے خلاف عوامی اشتعال انگیزی جیسے الزامات شامل تھے۔ بعد ازاں انہیں طویل قید کی سزا سنائی گئی، جسے بعد میں گھر میں نظربندی میں تبدیل کر دیا گیا۔