Odisha BJP Government: اڈیشہ میں بی جے پی حکومت کے دو سال مکمل، 20 جون کو منعقد کی جائے گی خصوصی تقریب، وزیر اعظم مودی اور صدر دروپدی مرمو کی شرکت متوقع
ریاستی حکومت کے مطابق یہ تقریب اڈیشہ میں گزشتہ دو برسوں کے دوران مختلف شعبوں میں ہونے والی ترقی، عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا اہم موقع ہوگی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مرکزی اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی ’’ڈبل انجن‘‘ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں اڈیشہ نے ترقی کے مختلف میدانوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
PM Modi Government Completes 12 Years: مودی حکومت کے 12 سال مکمل، بی جے پی 5 جون سے 21 جون تک ملک گیر عوامی رابطہ مہم چلائے گی
پارٹی کے مطابق یہ خصوصی مہم عالمی یومِ ماحولیات (5 جون) سے شروع ہو کر بین الاقوامی یوم یوگا (21 جون) تک جاری رہے گی۔ اس دوران بی جے پی لیڈرگاؤں گاؤں جا کر عوام سے ملاقات کریں گے اور مرکزی حکومت کی ترقیاتی اور عوامی فلاحی اسکیموں کی معلومات فراہم کریں گے۔
PM Modi shares the SanskritSubhashitam: وزیراعظم مودی نے کامیابی کا منتر کیا شئیر، سنسکرت شلوک کے ذریعے بتایا کون ہوتا ہےاصلی دانشور
اس شلوک کا مفہوم بیان کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حقیقی دانشمند وہ شخص ہے، جو کسی کام کو اچھی طرح سوچ سمجھ کر مضبوط ارادے کے ساتھ شروع کرتا ہے، اسے درمیان میں ادھورا نہیں چھوڑتا، اپنے وقت کا بہترین استعمال کرتا ہے اور اپنی خواہشات و جذبات پر قابو رکھتا ہے۔
Union Home Minister Amit Shah: شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی پر اہم غور و خوض، امت شاہ 4 جون کو شیلانگ میں این ای سی اجلاس کی کریں گے صدارت
ان منصوبوں میں این ای سی کی مالی معاونت سے چلنے والی اسکیمیں، این ای ایس آئی ڈی ایس روڈ پروجیکٹس، این ای ایس آئی ڈی ایس او ٹی آر آئی اور پی ایم-ڈیون منصوبے شامل ہیں، جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
Viksit Bharat 2047 Goals: وزیر اعظم مودی کا وکست بھارت2047 کا وژن تمام عوامی نمائندوں اور کارکنوں کو نئی توانائی فراہم کرتا ہے: سی ایم بھجن لال شرما
بھجن لال شرما کی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک بھر میں ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف سطحوں پر منصوبہ بندی اور ترقیاتی اقدامات کو تیز کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ راجستھان حکومت بھی اس قومی وژن کی تکمیل میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی اور ریاست کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کرے گی۔
Telangana statehood day 2026: تلنگانہ یوم تاسیس پر صدر جمہوریہ، وزیر اعظم مودی، امت شاہ سمیت کئی لیڈروں نے دی مبارکباد
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں تلنگانہ کے عوام کی صحت، خوشحالی اور کامیابی کے لیے بھی پرارتھنا کی اور کہا کہ ریاست آئندہ برسوں میں مزید ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گی۔
India-Myanmar Bilateral Talks: ’بحران کے وقت بھارت ہمیشہ ساتھ کھڑا رہا‘، وزیر اعظم مودی کی میانمار کے صدر کو یقین دہانی، امن و ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کا عزم
بات چیت کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت میانمار کا ایک قابل اعتماد ہمسایہ اور مشکل حالات میں مدد فراہم کرنے والا شراکت دار رہا ہے اور آئندہ بھی دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
PM Svanidhi Yojana: پی ایم سواندھی یوجنا: مایوسی کو امید میں بدلنے کی کہانی، اسکیم کا فائدہ اٹھانے والے مندیپ نے کہا- جینے کا سہارا ملا
ہریانہ کے کرنال شہر کے نیہرو پلیس مارکیٹ میں پیزا اسٹال چلانے والے مندیپ تنیجا اس اسکیم کے ایک نمایاں فائدہ اٹھانے والے ہیں، جنہوں نے اسے ’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اسکیم ان کی زندگی میں امید کی نئی کرن بن کر آئی اور ان کے بکھرتے ہوئے کاروبار کو دوبارہ سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
Myanmar President U Min Aung Hlaing Meets PM Modi: میانمار کی سرزمین بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، صدر یو من آنگ ہلینگ کی وزیر اعظم مودی کو یقین دہانی
میانمار کے صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ایسے تمام گروہوں کے خلاف کارروائی کرے گی جو میانمار کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کے خلاف سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ سلامتی سے متعلق چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
Myanmar President India Visit: وزیر اعظم مودی نے میانمار کے صدر سے ملاقات میں آنگ سان سوچی کی نظربندی کا معاملہ اٹھایا: وکرم مسری
آنگ سان سوچی کا معاملہ میانمار میں 2021 کے فوجی اقتدار سنبھالنے کے بعد عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا تھا۔ فوج نے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سوچی کے خلاف متعدد مقدمات قائم کیے تھے، جن میں بدعنوانی، کووڈ ضوابط کی خلاف ورزی اور فوج کے خلاف عوامی اشتعال انگیزی جیسے الزامات شامل تھے۔ بعد ازاں انہیں طویل قید کی سزا سنائی گئی، جسے بعد میں گھر میں نظربندی میں تبدیل کر دیا گیا۔





