PM Modi’s New Zealand Visit: ’’بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے سے کاروبار کو ملے گی نئی رفتار…‘‘ پی ایم مودی کے دورے سے قبل نیوزی لینڈ کے پی ایم کا بیان
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ہند نژاد برادری نے اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ اس بڑی بھارتی برادری سے خطاب کے منتظر ہیں، جس نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
Repatriation of Antiquities: بھارت-آسٹریلیا سربراہ اجلاس میں ثقافتی ورثے کی واپسی کا اہم اعلان، بھدرکالی کا ترشول، نندی اور شنمکھ کارتکیہ کا مجسمہ بھارت کے حوالے کرے گا آسٹریلیا
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور آزاد، کھلے اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے اپنی مشترکہ وابستگی کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آسٹریلیا کی حکومت اور وزیراعظم انتھونی البانیز کی جانب سے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ بھی ادا کیا۔
India-Australia Joint Declaration: بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان دفاعی صنعتوں کے انضمام پر اتفاق، بھارت-بحرالکاہل کے لیے مشترکہ اعلامیہ جاری
شترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں قائم ہونے والی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد دونوں ممالک کے اسٹریٹجک، اقتصادی اور عوامی روابط مسلسل مستحکم ہوئے ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا نے کواڈ سمیت مختلف علاقائی اور کثیرالجہت پلیٹ فارمز پر اپنے تعاون کو خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔
PM Modi Australia Visit: گگن یان سے عالمی تعلیم تک، بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تعلیم اور خلائی تعاون کے حوالے سے کئی اہم اعلانات
میلبورن میں منعقدہ تیسرے بھارت۔آسٹریلیا سالانہ سربراہی اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے آسٹریلیائی ہم منصب انتھونی البانیز نے دونوں ممالک کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری کو نئی رفتار دینے کے لیے کئی اہم اعلانات کیے۔
India-Australia Relations: ’’ہمارا ایجنڈا ون ڈے، فیصلے ٹی-20 اور شراکت داری ٹیسٹ میچ کی طرح طویل‘‘ میلبورن میں بولے وزیراعظم مودی
وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات میں کرکٹ ایک سفارتی زبان کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے برسوں میں دونوں ممالک اولمپک اور دولتِ مشترکہ کھیلوں جیسے بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی کریں گے، جس سے نہ صرف کھیلوں کے میدان میں تعاون بڑھے گا بلکہ اسپورٹس انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
India-Australia Strategic Partnership: وزیراعظم مودی کی رسمی استقبالیہ تقریب میں بھارت-آسٹریلیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی جھلکیاں رہیں نمایاں: وزارتِ خارجہ
دونوں ممالک ہند-بحرالکاہل خطے میں قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہے ہیں اور آزاد، محفوظ اور خوشحال ہند-بحرالکاہل کے قیام کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ کواڈ جیسے کثیر جہتی پلیٹ فارمز پر بھی دونوں ممالک کا اشتراک علاقائی استحکام اور عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
PM Invited Australian Business Leaders: وزیراعظم نریندر مودی نے آسٹریلوی سرمایہ کاروں کو دی بھارت میں سرمایہ کاری کی دعوت، میلبورن میں بھارت-آسٹریلیا سی ای او فورم سے خطاب
وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارتی حکومت نے اے آئی مشن، کوانٹم مشن اور سیمی کنڈکٹر پروگرام کے لیے 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے شعبوں میں عالمی سطح کے حل تیار کر سکتے ہیں۔
PM Modi received Guard of Honour: آسٹریلیا میں پرتپاک سرکاری استقبال، وزیراعظم نریندر مودی کو پیش کیا گیا گارڈ آف آنر، قومی ترانے ’جن گن من‘ کی دھن گونج
سرکاری تقریب سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت-آسٹریلیا سی ای او فورم میں شرکت کی، جہاں ان کے آسٹریلوی ہم منصب انتھونی البانیز نے ان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ تصویر بھی بنوائی۔ وزیراعظم مودی نے فورم میں دونوں ممالک کے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری رہنماؤں سے خطاب کیا۔
Thousands gather at Melbourne’s Marvel Stadium: میلبورن کے مارول اسٹیڈیم میں ہزاروں افراد کا اجتماع، وزیراعظم مودی نے کہا- یہ شو ہاؤس فل اور بلاک بسٹر ہے
وزیراعظم مودی نے اپنے 2014 کے آسٹریلیا دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تقریباً 28 برس بعد کسی ہندوستانی وزیراعظم نے آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’اس وقت میں نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ ہندوستان کے وزیراعظم کے دورے کے لیے لوگوں کو 28 برس انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘
Narmada Water Dispute Settlement: پی ایم مودی اور امت شاہ کی ثالثی سے نرمدا تنازع ختم، مدھیہ پردیش کا بوجھ گھٹا، گجرات کو ادا کرے گا 217 کروڑ روپے
1979 میں نرمدا آبی تنازع ٹریبونل کے اصل فیصلے کے مطابق گجرات کو مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر جیسی بالائی ریاستوں میں زمین کے حصول، باز آبادکاری اور متاثرین کی آبادکاری پر آنے والے اخراجات کا بڑا حصہ برداشت کرنا تھا۔





