Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

 بی جے پی لیڈر ونے کٹیار نے چمپت رائے سے متعلق بڑا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق، وہ وزیراعظم مودی کے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ جانچ جاری ہے۔ کوئی بھی قصوروار اس معاملے میں بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ اس معاملے میں چمپت رائے اورگوپال راؤ کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی 4 جولائی کو راجستھان اور گجرات کے دورے پر متعدد بڑے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھیں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی 10 جولائی کو نیوزی لینڈ کے اپنے پہلے تاریخی دورے پر آکلینڈ پہنچیں گے۔ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے اس دورے کو ملک کی معاشی خوشحالی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ اس موقع پر حال ہی میں ہونے والے ریکارڈ ساز آزاد تجارتی معاہدے (FTA) اور 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سمیت دوطرفہ تعاون کے مختلف امور پر تبادلۂ خیال ہوگا۔

کھرکھودا پلانٹ کو سوزوکی کے "اسمارٹ فیکٹری" تصورکے تحت تیارکیا گیا ہے، جہاں انڈسٹری 5.0 ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے تاکہ پیداوار کے معیار، تحفظ اورپیداواری صلاحیت کو مزید بہتربنایا جا سکے۔ پلانٹ میں شمسی توانائی، بایوگیس، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم اور دیگرماحول دوست ٹیکنالوجیز کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ اس کی مکمل بجلی کی ضرورت قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے پوری کی جائے گی۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں سانے تاکائچی کا خیرمقدم کیا، جہاں دونوں لیڈروں کے درمیان دوطرفہ مذاکرات ہوئے۔ ملاقات سے قبل دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے ایک دوسرے کا استقبال کیا، جبکہ سانے تاکائچی نے بھارت اور جاپان کے قومی پرچموں کے سامنے سر جھکا کر احترام کا اظہار بھی کیا۔

ہندوستان اور جاپان کے تعلقات صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور روحانی روابط پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1952 میں قائم ہوئے، 2000 میں انہیں عالمی شراکت داری، 2006 میں اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری اور 2014 میں خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کا درجہ دیا گیا۔

یہ ملاقات 16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہی کانفرنس کے موقع پر ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا اور علاقائی و عالمی امور پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ جاپان کی وزیرِاعظم سانے تاکائچی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا سرکاری دورۂ بھارت ہے،

سنائے تاکائیچی یکم سے 3 جولائی تک تین روزہ سرکاری دورے پر ہندوستان میں ہیں۔ اس دوران وہ 16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال ہوگا۔

دہلی کے حیدرآباد ہاوس میں وزیراعظم مودی اور جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائچی کے درمیان، دفاع، توانائی اور آرٹیفیشیل انٹلی جنس (اے آئی) سے متعلق تاریخی معاہدے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے تاکائچی کو اپنی 'چھوٹی بہن' قراردیا ہے۔

بھارت اور جاپان کے درمیان اقتصادی تعلقات مسلسل مستحکم ہو رہے ہیں۔ جاپان اس وقت بھارت میں سرمایہ کاری کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے، جبکہ بھارت جاپانی کمپنیوں کے لیے تیزی سے ابھرتی ہوئی اور قابلِ اعتماد سرمایہ کاری کی منزل بن چکا ہے۔