Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

چھ روزہ سرکاری غیر ملکی دورے کے آخری مرحلے میں وزیرِ اعظم مودی دارالحکومت آکلینڈ پہنچے تھے۔ یہ دورہ انتہائی کامیاب رہا، جس کے دوران 18 اہم فیصلے کیے گئے اور 10 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یو) پر دستخط ہوئے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔

وزیر اعظم نے مودی کہا کہ نیوزی لینڈ باغبانی، ڈیری سائنس اور جنگلات کے شعبے میں وسیع مہارت رکھتا ہے، جبکہ بھارت کے پاس بڑی صارف منڈی، فوڈ پارکس اور زرعی ٹیکنالوجی کی صلاحیت موجود ہے۔ دونوں ممالک مل کر کھیت سے بازار تک ویلیو چین اور عالمی برآمدی پلیٹ فارم قائم کر سکتے ہیں۔

مذاکرات کے دوران وزیر اعظم مودی نے جمعہ کی شام ہوائی اڈے پر خود استقبال کرنے پر وزیر اعظم لکسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان گرمجوش تعلقات کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ رات آپ کا مجھے لینے کے لیے ہوائی اڈے آنا میرے لیے ایک خاص اشارہ تھا، جس کے لیے میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکر گزار ہوں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کی۔ اس کے بعد آکلینڈ کے گورنمنٹ ہاؤس میں ان کا باضابطہ استقبال کیا گیا، جہاں انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

وزیر اعظم مودی اپنے تین ملکی دورے کے آخری مرحلے کے تحت مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی شام آکلینڈ پہنچے، جہاں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے خود ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ اس سے دونوں ممالک کی جانب سے اس دورے کو دی جانے والی اہمیت کا اظہار ہوا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے آکلینڈ میں بھارتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے 30 سال پرانا مفلر دکھایا اور بھارت-نیوزی لینڈ تعلقات کو نئی سمت دینے کی بات کی۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ بندرگاہوں کی سکیورٹی صرف انہی نجی سکیورٹی ایجنسیوں کو سونپی جائے گی جن کے اہلکاروں نے سی آئی ایس ایف سے خصوصی تربیت حاصل کی ہو۔ساحلی علاقوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ماہی گیری کے مراکز اور فش لینڈنگ سینٹرز پر مستقل پولیس فورس تعینات کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت روس سے خام تیل، قدرتی گیس، یورینیم اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات خریدنے والے ممالک کی امریکہ کو برآمد کی جانے والی اشیا اور خدمات پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ یہ بل 2025 کے "سینکشننگ رشیا ایکٹ" کو مزید سخت بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

سیاحت کے شعبے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی، جہاں دونوں ممالک نے ایک مفاہمتی انتظام پر دستخط کیے اور فضائی کمپنیوں سے بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان براہ راست نان اسٹاپ پروازیں شروع کرنے کی اپیل کی۔ زراعت، باغبانی، جنگلات، مویشی پالنے اور ڈیری کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔