Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

یہ وزیر اعظم مودی کے تین ملکی دورے کا پہلا مرحلہ ہے، جس کے بعد وہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ انڈونیشیا کے صدر پربوو سوبیانتو نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ اس دورے میں دفاع، تجارت، سمندری تعاون اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری پر گفتگو کی توقع ہے۔

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی کلکتہ یونیورسٹی کے کم عمر ترین وائس چانسلر بنے، جہاں انہوں نے تعلیمی نظام کو محض ملازمت فراہم کرنے کے بجائے نوجوانوں میں قیادت کی صلاحیت پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا۔قابل ذکر بات یہ ہے  کہ انہوں نے بھارتیہ جن سنگھ کی بنیاد رکھی، جس کا انتخابی نشان "دیپک" رکھا گیا،

دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ برہموس میزائل کی فروخت سمیت اعلیٰ سطحی دوروں، مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون نے اس شراکت داری کو نئی سمت دی ہے۔ بحر ہند کے اہم سمندری پڑوسی بھارت اور انڈونیشیا نے 2018 میں ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ سمندری وژن اختیار کیا تھا۔ آئی ایف سی-آئی او آر میں انڈونیشیا کے رابطہ افسر کی تعیناتی سے میری ٹائم ڈومین آگاہی کو مزید تقویت ملے گی۔

وزیراعظم مودی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان عطیات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دیگر سیاسی معاملات پر لفظی جنگ جاری ہے۔حال ہی میں لکھنؤ میں ایک بی جے پی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے نتن نبین نے راہل گاندھی، اکھلیش یادو اور اروند کیجریوال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ "ہندو مذہب کو اتنا کمزور نہ سمجھیں کہ لوگ ایسی باتوں میں آ جائیں۔

ڈاکٹر مکھرجی کی زندگی کو یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ ان کا تعلق ماہرینِ تعلیم اور دانشوروں کے ایک ممتاز خاندان سے تھا، لیکن انہوں نے آسائشوں کے بجائے قربانی اور عوامی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔انہوں نے کہا کہ اپنی اہلیہ اور کم عمر بچے کی وفات جیسے ذاتی صدمات کے باوجود ڈاکٹر مکھرجی نے قومی خدمت کا مشن نہیں چھوڑا اور نوآبادیاتی نظام،

مودی نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان صدیوں پر محیط ثقافتی اور عوامی روابط موجود ہیں اور ان کا یہ دورہ دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کو مزید گہرا کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انڈونیشیا میں مقیم بھارتی برادری سے بھی ملاقات کریں گے اور صدر پرابوو کے ساتھ یوگیاکارتا میں واقع تاریخی پرمبانن مندر کا دورہ بھی کریں گے،

مودی نے لکھا کہ ان خواتین کا جذبہ قابلِ تحسین ہے، کیونکہ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے جدید ٹیکنالوجی سیکھنے کا عزم کیا، خصوصی تربیت حاصل کی اور اب وہ بھارت کے سیمی کنڈکٹر مشن کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا، "مجھے اپنی نوجوان طاقت پر فخر ہے۔"

فوڈ چین کی بانی شلپا دوے اور ان کی پوری ٹیم وزیر اعظم نریندر مودی کی آمد کے لیے بے حد پُرجوش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی کا یہ دورہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا بہترین موقع ثابت ہوگا۔آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے شلپا دوے نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی اس سے قبل بھی انڈونیشیا آ چکے ہیں

تیجن بائی 1956 میں چھتیس گڑھ کے ضلع درگ کے گنیاری گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ہنوک لال پردھا اور والدہ سکھوتی تھیں۔ بچپن میں وہ اپنے نانا برج لال سے مہابھارت کی کہانیاں سنا کرتی تھیں، جنہوں نے بعد میں ان کی پوری زندگی کا رخ متعین کیا۔

وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ بھارت میں سیمی کنڈکٹر صنعت کا فروغ اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران الیکٹرانکس کے شعبے میں آنے والے انقلاب کا اگلا مرحلہ ہے۔ پہلے ملک میں الیکٹرانک مصنوعات کی تیاری پر زور دیا گیا،