Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

پی ایم مودی نے کہا کہ برطانیہ میں موجود ہندوستانی برادری صرف ’’کری‘‘ نہیں، تخلیقی صلاحیت، وابستگی اور بہترین کردار بھی ساتھ لائی ہے۔

اس معاہدے کے ساتھ ہی دونوں ممالک نے UK-India Vision 2035 کا بھی اعلان کیا، جو دفاع، ٹیکنالوجی، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، اور قومی سلامتی کے شعبوں میں مزید تعاون کی راہ ہموار کرے گا۔

یہ معاہدہ ہندوستان کے لیے سب سے جامع تجارتی معاہدہ جب کہ برطانیہ کے لیے یوروپی یونین سے باہر نکلنے کے بعد سب سے اہم تجارتی معاہدہ ہے۔

ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان یہ ایف ٹی اے نہ صرف معاشی بلکہ اسٹریٹجک تعلقات کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو 2030 تک 120 بلین ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

یہ دورہ سیاسی نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کا تھا — ایک مشن، جس کا مقصد بھارتی تارکینِ وطن کا شکریہ ادا کرنا تھا جنہوں نے گجرات کے بحران کے وقت بھرپور حمایت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد ای پی ایس اور وزیر اعظم مودی کی کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہوئی تھی، کیونکہ دونوں جماعتوں نے الگ الگ انتخابات لڑے تھے۔

اگست 2003 میں گجرات میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد، نریندر مودی (اس وقت کے وزیراعلیٰ) نے برطانیہ کا دورہ کیا تاکہ تارکین وطن بھارتیوں کا شکریہ ادا کیا جا سکے۔ انہوں نے ویملے کانفرنس سینٹر میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "آپ سب گجرات کے سچے دوست ہیں، اور میں دوستی کا قرض چکانے آیا ہوں

یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیہ کے لیے یہ دوسرا سب سے بڑا دو طرفہ تجارتی معاہدہ ہوگا۔ ایف ٹی اے دونوں ملکوں کی صنعتوں کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنائے گا اور اس کے نتیجے میں یوزرکے لیے اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

"برطانیہ میں بھارتی کمیونٹی کی جانب سے ملنے والے پرجوش استقبال سے میں بہت متاثر ہوں۔ بھارت کی ترقی کے لیے ان کا پیار اور جذبہ واقعی حوصلہ افزا ہے۔"

جے رام رمیش نے دہلی کے ایک تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (GTRI) کے حوالے سے بتایا کہ یہ ایف ٹی اے برطانوی کمپنیوں کو ہندوستانی سرکاری خریداری میں داخلے کی اجازت دے گا، جو تقریباً 600 بلین ڈالر کا بازار ہے۔