وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز لندن میں برطانیہ کے نومنتخب وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ہندوستان-برطانیہ آزادانہ تجارتی معاہدے (Free Trade Agreement) کو حتمی شکل دینے پر بات چیت کی۔ ملاقات لندن کے تاریخی ہوٹری روم میں ہوئی، جہاں دونوں وزرائے اعظم نے دو طرفہ تعلقات کے نئے دور کے آغاز پر تبادلۂ خیال کیا۔
واضح رہے کہ یہ معاہدہ ہندوستان کے لیے سب سے جامع تجارتی معاہدہ جب کہ برطانیہ کے لیے یوروپی یونین سے باہر نکلنے کے بعد سب سے اہم تجارتی معاہدہ ہے۔ برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارتی حجم میں 25.5 ارب پاؤنڈ کا اضافہ متوقع ہے، جب کہ ہزاروں نوکریاں پیدا ہوں گی، محصولات میں کمی آئے گی اور تجارتی مواقع بڑھیں گے۔
پی ایم مودی اور کیئر اسٹارمر ’’وژن 2035‘‘ کا بھی کریں گے اعلان
کیئر اسٹارمر نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں اس معاہدے کو اپنی ’’تبدیلی کے منصوبے‘‘ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ معاہدہ برطانیہ میں نوکریاں، سرمایہ کاری اور ترقی لائے گا اور محنت کش عوام کی جیب میں پیسہ ڈالے گا۔‘‘ پی ایم مودی اور کیئر اسٹارمر اس دوران ’’وژن 2035‘‘ کے نام سے ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا بھی اعلان کریں گے، جس میں دفاع، ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تبدیلی، تعلیم اور قومی سلامتی جیسے شعبوں میں تعاون کا خاکہ پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ہندوستان پہلے ہی برطانیہ کا 12واں بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور دو طرفہ تجارت 36 ارب پاؤنڈ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تازہ معاہدے کے تحت برطانوی مصنوعات جیسے گاڑیاں، میڈیکل آلات، کاسمیٹکس اور سافٹ ڈرنکس پر موجودہ اوسط 15 فیصد ٹیرف کم ہو کر صرف 3 فیصد رہ جائے گا، جس سے ہندوستانی صارفین کو فائدہ ہو گا۔ وہیں ہندوستانی برآمدکنندگان کو بھی برطانوی منڈی میں بہتر رسائی حاصل ہو گی، جس سے موجودہ 11 ارب پاؤنڈ کی ہندوستانی برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔ دریں اثنا برطانوی وزیر تجارت جوناتھن رینالڈز نے ہندوستان کو ’’اکیسویں صدی کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

