کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے وزیر اعظم مودی کے برطانیہ اور مالدیپ کے دورے پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان ہونے والا فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) ہندوستان کی گھریلو مارکیٹ کے ’’متعدد شعبوں اور خاص طور پر ملک کی چھوٹی صنعتوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
جے رام رمیش نے وزیر اعظم کو طنزاً ’’سپر پریمیم فریکوئنٹ فلائر‘‘ قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’سپر پریمیم فریکوئنٹ فلائر آج ایک بار پھر بیرون ملک روانہ ہو گئے— اس بار برطانیہ اور مالدیپ کے سفر پر ہیں۔‘‘ اسی پوسٹ میں مزید لکھتے ہوئے جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ ہند-برطانیہ ایف ٹی اے ہندوستان کی چھوٹی، درمیانی اور مائیکرو صنعتوں (MSMEs) کے لیے تباہ کن ہوگا، جو کہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور سب سے بڑے روزگار دینے والے شعبے ہیں۔ جے رام رمیش کے مطابق ’’گزشتہ 11 برسوں میں حکومت نے چند مخصوص کارپوریٹ گھرانوں کو ترجیح دے کر ان صنعتوں کو مسلسل نظر انداز کیا ہے۔‘‘
ایف ٹی میں دی جانے والی رعایتیں مقامی صنعتوں کو کریں گے کمزور: جے رام رمیش
اپنی پوسٹ میں جے رام رمیش نے دہلی کے ایک تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (GTRI) کے حوالے سے بتایا کہ یہ ایف ٹی اے برطانوی کمپنیوں کو ہندوستانی سرکاری خریداری میں داخلے کی اجازت دے گا، جو تقریباً 600 بلین ڈالر کا بازار ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق ’’یہ ہندوستان کی صنعتی پالیسی میں ایک خطرناک تبدیلی ہے، جو مقامی صنعتوں کو تحفظ دینے والی پالیسیوں کو کمزور کرے گی۔‘‘ وہیں انھوں نے لکھا کہ موٹر گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی کو 100% سے کم کر کے 10% کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، جو ’’پہلے سے ہی کمزور ’میک اِن انڈیا‘‘ کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گا‘‘۔ جے رام نے کہا کہ ’’یہ نرمی مستقبل میں دیگر ممالک سے معاہدوں میں مزید رعایتوں کی راہ ہموار کرے گی۔‘‘
सुपर प्रीमियम फ्रीक्वेंट फ्लायर आज एक बार फिर विदेश के लिए रवाना हो गए -इस बार वे ब्रिटेन और मालदीव की यात्रा पर गए हैं।
उनकी लंदन यात्रा का उद्देश्य भारत-ब्रिटेन मुक्त व्यापार समझौते (FTA) पर हस्ताक्षर करना है। यह समझौता वास्तव में कई हितधारकों के लिए घातक सिद्ध होगा। सबसे…
— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) July 23, 2025
جے رام رمیش نے مزید کہا کہ ہندوستان نے پہلی بار ایسے دوا سازی کے پیٹنٹ قوانین کو تسلیم کیا ہے جو WTO کی حدود سے آگے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ’’سستی دواؤں تک عوامی رسائی کو متاثر کرے گا اور بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔‘‘ وہیں ہندوستان کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (CBAM) سے چھوٹ لینے میں ناکام رہا ہے، جس کی وجہ سے برطانیہ، ہندوستانی مصنوعات پر کاربن ٹیکس لگانے کے لیے آزاد ہے، جب کہ ہم انھیں ڈیوٹی فری رسائی دے رہے ہیں۔
پی ایم مودی پر سادھا نشانہ
جے رام رمیش نے ان اعداد و شمار کی روشنی میں پی ایم مودی پر نشانہ سادھتے ہوئے لکھا کہ ’’وزیر اعظم اور ان کا پروپیگنڈا اس معاہدے کو جتنی بھی خوبصورت پیکنگ میں پیش کرے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے ہندوستان کے مقامی صنعت کاروں پر گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے ہند-برطانیہ ایف ٹی اے کو ایک تاریخی معاہدے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن حزبِ اختلاف کا دعویٰ ہے کہ اس معاہدے سے ہندوستان کی خودمختاری اور مقامی صنعتوں کو سخت دھچکا لگے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

