Bharat Express DD Free Dish

PM Modi In Britain: تاریخی تعلقات سے لے کر فری ٹریڈ ایگریمنٹ تک، 1993 کی بنیاد پر 2025 کی پارٹنرشپ

اگست 2003 میں گجرات میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد، نریندر مودی (اس وقت کے وزیراعلیٰ) نے برطانیہ کا دورہ کیا تاکہ تارکین وطن بھارتیوں کا شکریہ ادا کیا جا سکے۔ انہوں نے ویملے کانفرنس سینٹر میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
“آپ سب گجرات کے سچے دوست ہیں، اور میں دوستی کا قرض چکانے آیا ہوں

وزیراعظم نریندر مودی اس وقت برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ یہ دو روزہ دورہ بھارت-برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) کے ذریعے دوطرفہ تجارت کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ مودی جی کا چوتھا برطانیہ کا دورہ ہے، جبکہ وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا دورہ ہے۔

لندن میں وزیراعظم مودی کا شاندار استقبال

لندن پہنچنے پر وزیراعظم مودی کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں خاص طور پر بھارتی نژاد شہری ان کے استقبال کے لیے بےتاب تھے۔ لندن کا ماحول اس وقت مکمل طور پر “مودی مَے” ہو گیا تھا، جہاں بھارتی نژاد لوگوں میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم مودی اور برطانیہ سے ان کے تعلقات کی پرانی تصویریں بھی زیرِبحث ہیں۔ “مودی آرکائیو” نے 1993 کے بعد کے دوروں کی تفصیلات شیئر کی ہیں، جب نریندر مودی وزیر اعظم نہیں، بلکہ ایک کارکن کے طور پر برطانیہ گئے تھے۔

1993 میں پہلی بار برطانیہ گئے تھے مودی

1993 میں نریندر مودی نے پہلی بار برطانیہ کا دورہ کیا تھا، جب وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور قومی سیاست میں ابھرتی ہوئی شخصیت تھے۔ وہ اپنی پہلی امریکی یاترا سے واپسی کے دوران برطانیہ رکے تھے۔ نہ کوئی طے شدہ پروگرام تھا اور نہ ہی کوئی بڑا اسٹیج۔ یہ امریکہ سے واپسی پر ایک غیر رسمی پڑاؤ تھا۔

اپنے پہلے برطانیہ کے قیام کے دوران انہوں نے بھارتی نژاد کمیونٹی سے جڑنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ انہوں نے “سن رائز ریڈیو” اور ایک گجراتی اخبار جیسی کمیونٹی تنظیموں کا دورہ کیا۔ انہوں نے کروئڈن اور ہیسٹنگز میں کئی خاندانوں سے ملاقات کی۔ لندن انڈر گراؤنڈ میں انہوں نے برطانیہ میں مقیم عام بھارتیوں کے ساتھ خیالات کا تبادلہ کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اُس وقت جو بیج بوئے گئے، انہوں نے آنے والے عشروں میں بھارت کی تارکینِ وطن سفارت کاری کو مضبوطی دی۔

1999 میں دوبارہ برطانیہ کا سفر

اس کے بعد 1999 میں مودی نے دوبارہ برطانیہ کا پانچ روزہ دورہ کیا۔ اس بار ان کے دورے کا مرکز نِیسڈن کے سوامی نارائن اسکول میں منعقدہ “اوورسیز فرینڈز آف بی جے پی (یو کے)” کا تاریخی پروگرام تھا۔ اس تقریب میں مودی نے اعلان کیا تھا، “بی جے پی قوم پرستی اور حب الوطنی کی علامت ہے۔”

انہوں نے بھارت کی جمہوری روایات اور این ڈی اے کی پالیسی وژن پر تفصیل سے گفتگو کی۔ مودی نے بی جے پی کو صرف ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ روایت، مذہب، ثقافت اور جدیدیت سے جڑا ہوا ایک تحریک قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی جمہوری اقدار کو دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔

بھارت کے سچے دوست

اس دورے میں مودی کا لوهانا مہاجن کمیونٹی نے پُرجوش استقبال کیا۔ انہوں نے بھارتی تارکین وطن کو بھارتی تہذیب کے “سچے سفیر” قرار دیا۔ ستمبر 2000 میں بھی وہ لندن کے ایک مختصر دورے پر گئے، جب وہ کیریبین میں عالمی ہندو کانفرنس اور امریکہ میں اقوام متحدہ کے امن کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

اس مختصر دورے کے دوران بھی مودی نے ایک نمایاں اثر چھوڑا۔ انہوں نے برطانوی ڈپٹی وزیراعظم جان پریسکاٹ سے ملاقات کی اور ایشیا میں سیاسی استحکام اور جنوبی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران عالمی دہشت گردی پر خاص زور دیا گیا۔ انہوں نے کہا، “دہشت گردی انسانیت کے خلاف ایک لعنت ہے، چاہے وہ بھارت میں ہو، مشرق وسطیٰ میں یا شمالی آئرلینڈ میں۔”

قابل ذکر بات یہ ہے کہ 9/11 کے حملوں سے تقریباً ایک سال قبل مودی نے دہشت گردی کو عالمی انسانیت کے لیے مشترکہ خطرہ قرار دیا، جب کہ دنیا کے بیشتر رہنما ابھی اس خطرے کو مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے تھے۔

2003: دوستی کا قرض چکانے کے لیے برطانیہ آئے

اگست 2003 میں گجرات میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد، نریندر مودی (اس وقت کے وزیراعلیٰ) نے برطانیہ کا دورہ کیا تاکہ تارکین وطن بھارتیوں کا شکریہ ادا کیا جا سکے۔ انہوں نے ویملے کانفرنس سینٹر میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
“آپ سب گجرات کے سچے دوست ہیں، اور میں دوستی کا قرض چکانے آیا ہوں۔”

انہوں نے نہ صرف ان کی سخاوت کا اعتراف کیا بلکہ بھارت کے ساتھ ان کے جذباتی رشتے کو بھی سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی سے بھی ملاقات کی، جو اس وقت لندن میں موجود تھے۔

2011: ڈیجیٹل خطاب، گجرات کی ترقی پر زور

کچھ اسی طرح وزیر اعظم نریندر مودی کا برطانیہ کے ساتھ تعلق 2011 میں گجرات کی سونے جوبلی کے موقع پر دیکھنے کو ملا۔ اگرچہ وہ خود برطانیہ نہیں گئے تھے، لیکن انہوں نے گاندھی نگر سے ہی ڈیجیٹل ذریعے (’زوم‘) کے ذریعے لندن کے میفئیر میں موجود سامعین سے خطاب کیا تھا۔ پُرجوش سامعین سے مودی نے کہا:
“گجرات اور ترقی ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔ گجرات تاریخ رقم کر رہا ہے۔”

فرینڈز آف گجرات، گجرات سماچار اور ’ایشین وائس‘ کے زیرِ اہتمام اس پروگرام میں برطانوی ارکان پارلیمنٹ، لارڈز اور کمیونٹی لیڈرز سمیت 90 معزز مہمان شریک تھے۔ ان میں لارڈ غلام نون بھی شامل تھے، جنہوں نے نریندر مودی کے ساتھ براہِ راست اور متحرک گفتگو کی۔

اس موقع پر نریندر مودی نے اعلان کیا کہ مہاتما مندر 18 ہزار دیہاتوں کی مٹی سے تعمیر ہوگا اور برطانیہ میں رہنے والے فخر کے ساتھ جینے والے گجراتی بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ یہ پیغام واضح تھا کہ نریندر مودی کے لیے غیر مقیم بھارتی صرف تماشائی نہیں ہیں، بلکہ وہ بھارت کی تعمیر میں سرگرم شریک ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read