Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

واضح رہے کہ پی ایم مودی برطانیہ کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ پی ایم مودی نے جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) پر دستخط کو ہندوستان-برطانیہ تعلقات کے ایک نئے باب کے طور پر سراہا ہے۔

اس میٹنگ میں صحت، دواسازی، جواہرات و زیورات، آٹوموبائل، توانائی، مینوفیکچرنگ، ٹیلی کام، ٹیکنالوجی، آئی ٹی، لاجسٹکس، ٹیکسٹائل اور مالیاتی خدمات جیسے اہم شعبوں سے وابستہ کاروباریوں نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ حکومت ہند اس وقت برطانیہ میں مقیم تین اہم مفروروں—للت مودی، نیرو مودی اور وجے مالیا—کی حوالگی کے لیے برطانیہ سے بات چیت کر رہی ہے۔

پی ایم مودی نے تاریخی ہندوستان-برطانیہ آزاد تجارتی معاہدے (FTA) پر دستخط کرنے کی تعریف کی اور کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ برطانیہ میں موجود ہندوستانی برادری صرف ’’کری‘‘ نہیں، تخلیقی صلاحیت، وابستگی اور بہترین کردار بھی ساتھ لائی ہے۔

اس معاہدے کے ساتھ ہی دونوں ممالک نے UK-India Vision 2035 کا بھی اعلان کیا، جو دفاع، ٹیکنالوجی، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، اور قومی سلامتی کے شعبوں میں مزید تعاون کی راہ ہموار کرے گا۔

یہ معاہدہ ہندوستان کے لیے سب سے جامع تجارتی معاہدہ جب کہ برطانیہ کے لیے یوروپی یونین سے باہر نکلنے کے بعد سب سے اہم تجارتی معاہدہ ہے۔

ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان یہ ایف ٹی اے نہ صرف معاشی بلکہ اسٹریٹجک تعلقات کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو 2030 تک 120 بلین ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

یہ دورہ سیاسی نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کا تھا — ایک مشن، جس کا مقصد بھارتی تارکینِ وطن کا شکریہ ادا کرنا تھا جنہوں نے گجرات کے بحران کے وقت بھرپور حمایت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد ای پی ایس اور وزیر اعظم مودی کی کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہوئی تھی، کیونکہ دونوں جماعتوں نے الگ الگ انتخابات لڑے تھے۔